خیر و شر کے بارے میں جامع ترین آیات
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۹۰
بیشک اللہ عدل ,احسان اور قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اور بدکاری ,ناشائستہ حرکات اور ظلم سے منع کرتا ہے کہ شاید تم اسی طرح نصیحت حاصل کرلو.
خیر و شر کے بارے میں جامع ترین آیات:
اس آیت کی جاذبیت اور طرزِ بیان کے بارے میں یہ روایت ملاحظہ ہو:
عثمان بن مظعون رسول اکرم ٓصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور صحابہ میں سے تھے، وہ کہتے ہیں:
شروع میں میں نے اسلام ظاہری طور پر ہی قبول کیا تھا اور دل سے اسے نہیں مانا تھا وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارہا مجھے اسلام کی دعوت دیتے۔ شرم کی وجہ سے میں نے قبول کر لیا میری یہ کیفیت یونہی رہی ہیاں تک کہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ آپ بہت گہری فکر میں ہیں اور سخت پریشان ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اچانک آپ نے اپنی نظریں آسمان پر گاڑ دیں، یوں لگتا تھا جیسے کوئی پیغام وصول کر رہے ہیں یہ حالت ختم ہوئی تو میں نے ماجرا پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جس وقت میں تم سے باتیں کر رہا تھا، اچانک میں نے جبرائیل کو دیکھا وہ میرے پاس یہ آیت لے کر آئے تھے:-
’اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى‘
آپ نے میرے سامنے یہ آیت پوری تلاوت کی تو اس کے مضمون نے میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ اسی وقت اسلام میری روح میں اتر گیا میں آپ کے چچا ابے طالب کے پاس گیا اور انھیں یہ واقعہ سنایا تو انھوں نے فرمایا:
اس اہلِ قریش؛ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرو تو ہدایت پاوؑگے کیونکہ وہ تمھیں مکارم ِ اخلاق کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا۔
پھر میں ولید بن مغیرہ کے پاس گیا (یہ مشہور عالم اور مشرکین کا ایک سردار تھا) یہ ہی آیت میں نے اس کے سامنے پڑھی تو اس نے کہا:
اگر یہ بات خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہے تو بہت عمدہ ہے اور اگر اس کے خدا کی طرف سے ہے تو بھی بہت ہی اچھی ہے۔ ۱؎
ایک اور حدیث میں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت ولید بن مغیرہ کے سامنے پڑھی تو اس نے کہا برادرزاد: ۲؎ اسے پھر پڑھنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پھر پڑھی تو ولید نے کہا:
ان لہ لحلاوۃ و ان علیہ الطلاوۃ، وان اعلاہ لمثمر، وان اسفلہ لمغعق، وما ھو قول البشر۔
یہ خاص مٹھاس، حسن اور درخشندگی کی حامل ہے اس کی شاخیں پُر بار ہیں اور اس کی جڑیں پُر برکت ہیں اور کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ ۳؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک اور حدیث مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جماع التقوٰی فی قولہ تعالیٰ ان اللہ یاؑمر بلعدل و الحسان
تقویٰ سارے کا سارا خدا کے اس ارشاد میں ہے۔ (ان اللہ یاؑمر بلعدل و الحسان) ۴؎
مذکورہ بالا احادیث اور دیگر متعد احادیث سے یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہو جاتی ہے کہ زیر نظر آیت اسلام کے ایک ہمہ گیر حکم، اسلام کے ایک بنیادی قانون اور اس کے عالمی منشور کی بنیاد کے طور پر ہمیشہ مسلمانوں کے ہاں بہت اہم وہی ہے ہیاں تک کہ ایک حدیث کے مطابق جب امام باقر علیہ السلام نمازِ جمعہ پڑھاتے تو خطبہ نماز کے آخر میں آپ یہ ہی آیت تلاوت فرماتے اور اس کے بعد ان الفاظ میں دعا کرتے۔
اللھم انعلنا ممن یذکر فتنفعہ الذکریٰ
------------------------------------------------
۱؎ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔
۲؎ بھائی کا بیٹا۔ اس نے اس لیے کہا کہ ولید بن مغیرہ ابو جہل کا چچا تھا اور یہ دونوں قریش میں سے تھے۔
۳؎ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔
۴؎ نور الثقلین جلد ۳ ص ۱۷۸۔
------------------------------------------------
خداوندا؛ ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو پندونصیحت کو سنتے ہیں اور یہ ان کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔
اس کے بعد آپ منبر سے اتر آتے۔ ۱؎
اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہر قسم کی بد بختی، فساد اور برائی سے پاک ہو جائے تو اس کے لیے کافی ہے کہ ان تین اصولوں پر عمل کیا جائے؛
۱۔ عدل ۲۔ احسان ۳۔ ایتاء ذی القربیٰ
اور ان تین انخرافات کا سطح ارض سے خاتمہ کر دیا جائے:
۱۔ فحشاء ۲۔ منکر اور ۳۔ بغی
مشہور صحابئ رسول ابنِ مسعود سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا:
یہ آیت قرآن میں خیر اور شر کے بارے میں جامع ترین آیت ہے۔
ان کے اس قول کی بھی یہ ہی وجہ ہے جو بیان کی جاچکی ہے۔
اس آیت کا مفہوم ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لرزا دینے والی حدیث یاد دلاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔
صتغان من امتی اذا اصلحا صلحت امتی واذا فسد فسدت امتی
میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں کہ اگر ان کی اصلاح ہو جائے گی تو میری امت کی اصلاح ہو جائے گی اور وہ فاسد اور خراب ہوجائیں گے تو میری امت فاسد ہو جائےگی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا؛
’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ دو گروہ کون سے ہیں؟ ‘‘
الفقھاء والامراء
علماء اور امراء و اہل ِ اقتدار۔
محدث قمی، ’سفینۃ البحار‘ میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اور حسبِ حال حدیث نقل کرتے، آپ نے فرمایا:-
قال تکلم النار یوم القیٰمۃ ثلاثۃ؛ امیراً، وقاریاً، وذاثروۃ من المال، فیقول للامیر یا من وھب اللہ لہ سلطاناً فلم بعدل، فتزدردہ کما تزدرد الطیر حب السمم، وتقول للقاری بامن تزین للناس وبارز اللہ
----------------------------------------------
۱؎ نور الثقلین جلد ۳ ص ۷۷ بحوالہ کافی
----------------------------------------------
با لمعامی فتزدردہ، وتقول للغنی یا من وھب اللہ لہ دنیا کثیرۃ واسعۃ فیضاً وسئلہ الحقیر الیسیر قرض فابی الا بخلا فتزدردہ۔
قیامت کے دن جہنم کی آگ تین گروہوں سے بات کرے گی۔ اہل اقتدار، علماء اور دولت مند۔
اہل ِ اقتدار سے کہے گی؛ یہ تمھیں خدا نے اقتدار دیا تھا لیکن تم نے عدل سے کام نہیں لیا۔ یہ کہہ کر آگ انھیں اس طرح سے نگلے گی جیسے پرندوں تلوں کے دانوں کو نگل جاتا ہے۔
اس کے بعد علماء سے کہے گی؛ تم نے طاہراً تو اپنے آپ کو بہت اچھا بنا رکھا تھا لیکن تم اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔
یہ کہہ کر آف انھیں بھی نگل جائے گی۔
پھر دولت مندوں سے کہے گی؛ خدا نے تمھیں بہت سے وسائل عطا کیے تھے اور تم نے چاہا تھا کہ ان میں سے کچھ مال خرچ کرو لیکن تم نے بخل سے کام لیا۔
یہ کہہ کر آگ انھیں بھی نگل جائےگی۔ ۱؎
(عدالت اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد میں سورہ مائدہ کی آیہ ۸ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ادھر رجوع کیجیے گا)۔
------------------
------------------
---------------------------------------------
۱؎ سفینۃ البحار جلد ۷۱ ص ۳۰۔
---------------------------------------------