Tafseer e Namoona

Topic

											

									  نہایت جامع معشرتی پروگرام

										
																									
								

Ayat No : 90

: النحل

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۹۰

Translation

بیشک اللہ عدل ,احسان اور قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اور بدکاری ,ناشائستہ حرکات اور ظلم سے منع کرتا ہے کہ شاید تم اسی طرح نصیحت حاصل کرلو.

Tafseer

									تفسیر:

نہایت جامع معشرتی پروگرام:
 گذشتہ آیت میں تھا کہ قرآن میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔ زیر نظر آیت میں تعلیمات ِ اسلام کا ایک جامع اجتماعی انسانی اور اخلاقی پروگرام پیش کیا ہے۔ یہاں آیت میں چھ اہم اصول بیان کیے گئے ہیں۔ تین مثبت پہلو سے ہیں، اور تین منفی پہلو سے۔
 پہلے فرمایا گیا ہے: اللہ عدل و احسان اور اسی طرح قریبیوں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے (اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى)۔
عدل سے بڑھ کر کون سا قانون وسیع اور جامع متصور ہو سکتا ہے۔ عدل وہی قانون ہے جس کے خور پر تمام نظام ِ ہستی گردش کرتا ہے۔ آسمان و زمین اور تمام موجودات عدالت کے ساتھ قائم ہیں (بلعدل قامت السمٰوٰت والارض)۔
انسانی معاشرہ اس وسیع عالم ِ ہستی کا ایک گوشہ ہے۔ یہ معاشرہ عالم ِ ہستی کے اس عمومی قانون سے الگ نہیں ہو سکتا اور عدل کے بغیر صحیح طرح اپنی زندگی جاری نہیں رکھ سکتا۔
ہم جانتے ہیں کہ عدل کا حقیقی معنیٰ ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ پر ہو لہذا ہر قسم کا انحراف، افراط و تفریط، حد سے تجاوز اور دوسروں کے حقوق کا استحصال عدالت کے بر خلاف ہے۔ ایک صحیح انسان وہ ہے جس کے بدن کے تمام حصے بغیر کسی کمی بیشی کے اپنا اپنا کام کریں جب کبھی اس کا کوئی ایک یا کچھ حصے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی کریں یا تجاوز کریں تو فوراً سارے بدن پر خرابی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں اور بیماری یقینی طور پر آجاتی ہے۔

سارا انسانی معاشرہ بھی ایک انسانی بدن کی طرح ہے۔ ا گر عدل ملحوظ نہ رکھا جائے تو یہ بیمار ہو جائے گا۔
لیکن چونکہ بعض بحرائی و استثنائی مواقع پر تنہا عدالت اپنے جاہ و جلال اور گہرائی کے ساتھ کارساز نہیں ہوئی۔ لہذا ساتھ ہی احسان کا حکم دیا گیا ہے۔
زیادہ واضح الفاظ میں انسانوں کی طویل زندگی میں ایسے حساس مواقع بھی آجاتے ہیں کہ جب مشکلات کا حل عدالت کی مدد سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ ایثار، درگذر اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کا مفہوم ’احسان‘ میں مضمر ہے۔
مثلاً ایک غدار اور دھوکا باز دشمن نے علاقے پر حملہ کر دیا۔ یا طوفان، سیلاب اور زلزلے نے ملک کا ایک حصہ تباہ کر دیا ہے۔
اب اگر لوگ ان حالات میں اس انتظار میں رہیں کہ مالی لحاظ سے اور دیگر لحاظ سے عادلانہ قوانین ان مسائل کو حل کریں تو یہ ممکن نہیں ہے ایسے مواقع پر وہ تمام لوگ کہ جن کے پاس زیادہ وسائل ہیں، جن کے پاس فکری، جسمانی اور مالی طاقت ہے انھیں چاہیے کہ ایثار و قربانی سے کام لیں اور طاقت کے مطابق ایثار کریں۔ ورنہ ہو سکتا ہے ظالم دشمن سارے ملک کو ختم کر دے یا قدرتی آفات بہت سے لوگوں کو بلکل مفلوج کر دیں۔
اتفاق کی بات ہے کہ یہ دونوں اصول ایک انسان کے بدن میں بھی فطری طور پر کار فرماہیں۔ عام حالات میں بدن کے تمام حصے ایک دوسرے کی خدمت کرتے ہیں اور ہر عضو سارے بدن کے لیے کام کرتا ہے اور دوسرے اعضاء کی خدمات سے بہرہ مند ہوتا ہے یہ دراصل عدالت ہی ہے لیکن جب کبھی ایک عضو زخمی ہو جاتا ہے اور مقابلۃً خدمت کی قوت کھو بیٹھتا ہے تو کیا ممکن ہے اس حالت میں باقی اعضاء اسے بھلا دیں کیونکہ وہ بیکار ہو گیا ہے۔ کیا ممکن ہے زخمی عضو کا دوسرے اعضاء ساتھ نہ دیں اور اسے غذا نہ پہنچائیں؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دراصل احسان ہی ہے۔
سارے انسانی معاشرے پر بھی یہ دو اصول کار فرما ہونے چاہییں ورنہ معاشرہ صحیح و سالم نہیں ہو سکتا۔
اسلامی روایات اور اسی طرح مفسرین کے اقوال میں عدل و احسان کے درمیان فرق کے بارے میں مختلف بیانات دکھائی دیتے ہیں جو شاید زیادہ تراسی مفہوم کی طرف لوٹتے ہیں جو ہم نو سطور ِ بالا میں بیان کیا ہے۔
ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے:
 العدل الانصاف، والاحسان التفضل۔
 عدل یہ ہے کہ لوگوں کے حقوق ان تک پہنچائے جائیں اور احسان یہ ہے کہ ان پر تفضل کیا جائے۔ ۱؎
اسی چیز کی طرف سطور ِ بالا میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔
بعض نے کہا ہے:
 ’عدل‘ توحید ہے اور ’احسان‘ واجبات کی دائیگی ہے۔
 اس تفسیر کی بناء پر ’علد‘ اعتقاد کی طرف اور ’احسان‘ عمل کی طرف اشارہ ہے۔
بعض نے کہا ہے: 
 ’عدالت‘ ظاہر و باطن کی ہم آہنگی کا نام ہے اور ’احسان‘ یہ ہے کہ انسان کا باطن ان کے
--------------------------------------------
۱؎ نہج البلاغہ، کلمات قصار، جملہ ۲۳۱۔
--------------------------------------------

ظاہر سے بہتی ہو۔
بعض دیگر مفسرین نے عدالت کو عملی پہلوؤں سے مربوط سمجھا ہے اور ’احسان‘ کو گفتار کے ساتھ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے ان میں سے بعض تفاسیر ہمارے ذکر کردہ مفہوم سے ہم آہنگ ہیں اور دوسری بھی اس کے منافی نہیں ہے اور اس قابل ہیں کہ سب کو اس آیت میں سمجھا جائے۔
رہا ’وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى‘یعنی قریبیوں کے ساتھ نیکی کرنے کا مسئلہ تو یہ درحقیقت مسئلہ ِ احسان کا ایک حصہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ ’احسان‘ ہورے معاشرے کے ساتھ اور وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى خصوصیات سے اقرباء اور وابستگان کے ساتھ ہے کہ جو ایک چھوٹا معاشرہ شمار ہوتا ہے یہ خاندان معاشرے کی ایک اکائی ہے اگر اس میں باہمی اتحاد ہوگا تو اس کا اثر پورے معاشرے پر مرتب ہوگا۔ در حقیقت اس طرح لوگوں میں فرائض اور ذمہ داریاں صحیح صورت میں تقسیم ہوتی ہیں، کیونکہ ہر گروہ ذرا پہلے درجے میں اپنے اقرباء میں سے کمزور افراد کی دستگیری کرے گا تو اس طرح سے تمام افراد کے اپنے اقرباء کے ساتھ خوشگوار مراسم قائم ہو جائیں گے۔

 بعض احادیث ِ اسلامی میں ہے کہ ’ذی القربیٰ‘ سے مراد پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیکی یعنی آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام ہیں اور ’ایتاء ذی القربیٰ‘ سے مراد خمس کی ادائیگی ہے۔
اس تفسیر کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ آیت کا مفہوم محدود کر دیا جائے بلکہ کوئی مانع نہیں کہ آیت اپنے وسیع مفہوم میں باقی رہے اور یہ مفہوم دراصل اس کے عمومی مفہوم کا ایک روشن مصداق ہے۔
 اوراگر ہم ’ذی القربیٰ‘ کو مطلق طور پر نزدیکیوں کے معنیٰ میں لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے وہ نسب اور خاندان کے اعتبار سے نزدیکی ہوں یا کسی اور اعتبار سے نزدیکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آیت کا مفہوم اور بھی وسیع ہو جائے گا۔ اس طرح اس کے مفہوم میں ہمسائے، دوست اور اس قسم کے دیگر قریبی بھی شامل ہو جائیں گے۔ اگرچہ ’ذی القربیٰ‘ کا مشہور معنی وہی ’اقرباء و خویش‘ہی ہے۔
 چھوٹے معاشرہ (یعنیٰ اقرباء و اعزاء) کی مدد میں چونکہ انسان کے احساسات، کارفرما ہوتے ہیں لہذا اجزاء کے لحاظ سے یہ حکم زیادہ قوی تر ہے۔
ان تین مثبت اصولوں کے ذکر کے بعد تین ممانعتوں کا ذکر شروع ہوتا ہے فرمایا گیا ہے: اللہ ’فحاش‘ ، ’منکر‘ اور ’بغی‘ کے مفہوم کے بارے میں بھی مفسرین میں بہت اختلاف ہے لیکن ان کے لغوی معانی کو ایک دوسرے ک قرینے سے دیکھا جائے تو زیادہ مناسب یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ ’فحشاء‘ سے مراد چھپے ہوئے گناہ ہیں ’منکر‘ کھلے عام گناہوں کو کہتے ہیں اور ’بغی‘ اپنے حق سے ہر قسم کے تجاوز، ظلم اور اپنے تئیں دوسرے سے بڑا سمجھنے کی طرف اشارہ ہے۔
بعض مفسرین۱؎ نے کہا ہے کہ اخلاقی انحراف کا سر چسمہ تین قوتیں ہیں:
---------------------------------------------------
۱؎ تفسیر فخر الدین رازی جلد ۲۰ ص ۱۰۴
---------------------------------------------------
۱۔ قوتِ شہوانی
۲۔ قوتِ غضبی
۳۔ قوتِ وہمی شیطانی

۱۔ قوتِ شہوانی: انسان کو زیادہ سے زیادہ لذتیں حاصل کرنے پر ابھارتی ہے اور اسے فحشاء میں غرق کر دیتی ہے۔

۲۔ قوتِ غضبی: انسان کو منکرات انجام دینے اور لوگوں کو اذیت پہچانے پر انیگخت کرتی ہے۔
۳
۔ قوتِ وہمی شیطانی: انسان کو مقام و منصف اور بڑا بننے پر ابھارتی ہے اور انسان کی نظر کو فقط اس کی اپنی ذات تک محدود کر دیتی ہے انسان میں دوسروں کے حقوق پر تجاوز کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور اسے ایسے کاموں پر اکساتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تعبیرات کے ذریعے ان جبلتوں کی سر کشی پر تنبیہ کی ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں ایک جامع بیان کہ جس میں یہ تمام اخلاقی انحرافات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کے ذریعے راہِ حق کی طرف ہدایت کی گئی ہے۔
آیت کے آخر میں ان چھ اصولوں پر ایک اور تاکید کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے شاید تم خیال کرو اور عمل کرنے لگو۔ (یعظکم لعلکم تذکرون)۔