سوره نحل/ آیه 91 تا 94
وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ۹۱وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا تَتَّخِذُونَ أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ أَنْ تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ ۚ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّهُ بِهِ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ۹۲وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۹۳وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا السُّوءَ بِمَا صَدَدْتُمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۹۴
اور جب کوئی عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو اور اپنی قسموں کو ان کے استحکام کے بعد ہرگز مت توڑو جب کہ تم اللہ کو کفیل اور نگراں بناچکے ہو کہ یقینا اللہ تمہارے افعال کو خوب جانتا ہے. اور خبردار اس عورت کے مانند نہ ہوجاؤ جس نے اپنے دھاگہ کو مضبوط کاتنے کے بعد پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا-کیا تم اپنے معاہدے کو اس چالاکی کا ذریعہ بناتے ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے-اللہ تمہیں ان ہی باتوں کے ذریعے آزما رہا ہے اور یقینا روزِ قیامت اس امر کی وضاحت کردے گا جس میںتم آپس میں اختلاف کررہے تھے. اور اگر پروردگار چاہتا تو جبراتم سب کو ایک قوم بنادیتا لیکن وہ اختیار دے کر جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے منزل ہدایت تک پہنچادیتاہے اور تم سے یقینا ان اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا جوتم دنیا میں انجام دے رہے تھے. اور خبردار اپنی قسموں کو فساد کا ذریعہ نہ بناؤ کہ نو مسلم افراد کے قدم ثابت ہونے کے بعد پھر اکھڑ جائیں اور تمہیں راہ هخدا سے روکنے کی پاداش میں بڑے عذاب کا مزہ چکھنا پڑے اور تمہارے لئے عذابِ عظیم ہوجائے.
91) وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّـٰهِ اِذَا عَاهَدْتُّـمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُـمُ اللّـٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ۔
92) وَلَا تَكُـوْنُـوْا كَالَّتِىْ نَقَضَتْ غَزْلَـهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ۖ تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُـوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ ۚ اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّـٰهُ بِهٖ ۚ وَلَـيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنْتُـمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ
93) وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَآءُ وَيَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَلَتُسْاَلُنَّ عَمَّا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ
94) وَلَا تَتَّخِذُوٓا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوْتِـهَا وَتَذُوْقُوا السُّوٓءَ بِمَا صَدَدْتُّـمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْـمٌ
ترجمہ:
91) اللہ سے پیمان باندھو تو ایفائے عہد کرو اور اپنی قسموں کو ان کے پکا ہو جانے کے بعد نہ توڑو جبکہ تم خدا کو اپنی قسموں پر کفیل و ضامن قرار دے چکے ہو جو کچھ تم انجام دیتے ہو اللہ اس سے آگاہ ہے۔
92) اس (کم عقل) عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے سُوت کو خُوب کات کر کھول دیتی ہے جبکہ تم اپنی قسموں (اور پیمانوں) کے ذریعے خیانت و فساد کرتے ہو اس بناء پر کہ ایک گروہ کی نفری دوسرے سے زیادہ ہے( اور دشمن کی کثرت کو رسولِ خدا کی بیعت توڑنے کے لیے بہانہ بناتے ہو) اور اللہ تمھیں آزماتا ہے اور جس چیز کے بارے میں تم اختلاف کرتے ہو، روزِ قیامت اسے واضح کر دے گا۔
93) اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا( سب کو جبری طور پر ایمان قبول کروا دیتا لیکن جبری ایمان کا کیا فائدہ ہے) مگر خدا جس شخص کو چاہتا ہے(اور مستحق پاتا ہے) اسے گمراہ کر دیتا ہے اور جس شخص کو چاہتا ہے (اور سے س لائق سمجھتا ہے) ہدایت کرتا ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو تمھاری اس بارے میں باز پُرس ہوگی۔
94) اپنی قسموں کو باہم دھوکا بازی اور خیانت کا ذریعہ نہ بناؤ، مبادا (ایمان پر) جمے ہوئے قدم اکھڑ جائیں اور پھر راہِ خدا سے (لوگوں کو) روکنے کے بُرے آثار کا مزہ چکھو اور تمھارے لیے بڑا سخت عذاب ہوگا۔