Tafseer e Namoona

Topic

											

									  چند اہم نکات

										
																									
								

Ayat No : 78-83

: النحل

وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۷۸أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۷۹وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ جُلُودِ الْأَنْعَامِ بُيُوتًا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَا أَثَاثًا وَمَتَاعًا إِلَىٰ حِينٍ ۸۰وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِمَّا خَلَقَ ظِلَالًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْجِبَالِ أَكْنَانًا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ ۸۱فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ۸۲يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ الْكَافِرُونَ ۸۳

Translation

اور اللہ ہی نے تمہیں شکم مادر سے اس طرح نکالا ہے کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اسی نے تمہارے لئے کان آنکھ اور دل قرار دئے ہیں کہ شاید تم شکر گزار بن جاؤ. کیا ان لوگوں نے پرندوں کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح فضائے آسمان میں مسخر ہیں کہ اللہ کے علاوہ انہیں کوئی روکنے والا اور سنبھالنے والا نہیںہے بیشک اس میں بھی اس قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھنے والی قوم ہے. اور اللہ ہی نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو وجہ سکون بنایا ہے اور تمہارے لئے جانوروں کی کھالوں سے ایسے گھر بنادئے ہیں جن کو تم روزِ سفر بھی ہلکاسمجھتے ہو اور روزِ اقامت بھی ہلکا محسوس کرتے ہو اور پھر ان کے اون, روئیں اور بالوں سے مختلف سامان هزندگی اور ایک مدّت کے لئے کارآمد چیزیں بنادیں. اور اللہ ہی نے تمہارے لئے مخلوقات کا سایہ قرار دیا ہے اور پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں بنائی ہیں اور ایسے پیراہن بنائے ہیں جو گرمی سے بچاسکیں اور پھر ایسے پیراہن بنائے ہیں جو ہتھیاروں کی زد سے بچاسکیں. وہ اسی طرح اپنی نعمتوں کو تمہارے اوپر تمام کردیتا ہے کہ شاید تم اطاعت گزار بن جاؤ. پھر اس کے بعد بھی اگر یہ ظالم منہ پھیر لیں تو آپ کا کام صرف واضح پیغام کا پہنچا دینا ہے اور بس. یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور پھر انکار کرتے ہیں اور ان کی اکثریت کافر ہے.

Tafseer

									چند اہم نکات:
 "نعمت اللہ" سے مراد: اس سلسلے میں مفسرین کی مختلف تفسیریں ہیں کہ آیت میں "نعمت اللہ" سے کیا مراد ہے ان میں سے زیادہ تر کوئی ایک مصداق بیان کرتی ہیں حالانکہ "نعمت اللہ" کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ تمام مادی معنوی نعمتیں اس میں شامل ہیں یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ِ گرامی بھی اس مفہوم میں شامل ہے روایات اہل ِ بیت ٰعلیہ السلام میں بتایا گیا ہے کہ اس سے مراد آئمہ اور معصوم رہبروں کے وجود کی نعمت ہے۔
 ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے:
 نحن واللہ نعمۃ اللہ التی انعم بھا علی عبادہ ابنا فاز من فاز
 قسم بخدا کہ جس نعمت کی وجہ سے اللہ نے بندوں پر اپنا لطف و کرم کیا ہے وہ ہم ہی ہیں اور ہمارے سبب سے سعادت مند سعید کامیاب ہیں۔1؎
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1؎ نور الثقلین جلد3 ص 72۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

یہ بات واضح ہے کہ سچے رہبروں کی رہبری سے استفادہ کیے بغیر سعادت و کامیابی ممکن نہیں اور ان عمدیان ِ حق کا وجود اللہ کی سب سے واضح نعمت ہے اور یہاں اس کا ذکر ایک آشکار مصداق کے طور پر کیا گیا ہے۔

2۔   حق و باطل میں کش مکش: بعض مفسرین نے زیر بحث آیات میں " یعرفون نعمت اللہ ثمہ ینکرونھا" میں لفظ "ثمہ" پر غور و خوض کیا ہے۔ یہ لفظ عموماً، عام فاصلے کے ساتھ آنے والے عطف کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ نشاندہی کرتا ہے کہ نعمات ِ الٰہی کی اس آگہی و علم اور پھر ان کے انکار کے درمیان فاصلہ تھا۔ مفسرین کا کہنا ہے کہ تعبیر یہ نکتہ بیان کر رہی ہے کہ مناسب تو یہ تھا کہ وہ نعمت ِ الٰہی کو پہچان لینے کے ساتھ ہی صمیم قلب سے اعتراف کرتے اور اس کی طرف آتے لیکن انھوں نے انکار کا راستہ اختیار کر لیا قرآن نے ان کے اس عمل کو دور کی بات شمار کیا ہے، اور اسے "ثمہ" سے تعبیر کیا ہے۔
لیکن ہم یہ احتمال پیش کرتے ہیں کہ یہاں "ثمہ" ایک زیادہ ظریف اور عمدہ نکتے کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ جس وقت دعوت ِ حق اپنےھ منطقی اصول کی بناء پر انسان کی روح پر پَر تو ڈالے تو وہ ان منفی عوامل کے خلاف پر سر پیکار ہو جاتی ہے کہ جو کبھی کبھی اس میں موجود ہوتے ہیں یہ پیکار ایک عرصے تک جاری رہتی ہے اور یہ عرصہ منفی عوامل کی قوت یا ضعف کے تناسب سے ہوتا ہے اگر منفی عوامل زیادہ قوی ہوں تو کچھ عرصے بعد انھیں غلبہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے "ثمہ" کی تعبیر بلکل مناسب ہے۔
سورہ انبیاء کی آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں بتایا گیا ہے کہ جب آپ نے بتوں کو توڑنے کے بعد بت  بُت پرستوں کے سامنے اپنی قومی منطق پیش کی تو چند لمحے تو وہ سوچ میں پڑ گئے اور اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے قریب تھا کہ وہ حق کی طرف جھکتے اور بیداری کی یہ لہر ان کے پورے وجود کو روشن کر دیتی لیکن منفی عوامل یعنی تعصب تکبر اور ہٹ دھرمی دعوت ِ حق کے آڑے آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لمحات جاتے رہے اور پھر وہ پھر سے انکار کرنے لگ پڑے۔ یہاں بھی لفظ "ثمہ" استعمال ہوا ہے۔

 فَرَجَعُـوٓا اِلٰٓى اَنْفُسِهِـمْ فَقَالُـوٓا اِنَّكُمْ اَنْتُـمُ الظَّالِمُوْنََ ثُـمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِـمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰٓؤُلَآءِ يَنْطِقُوْنََ
 پس وہ اپنی ضمیر کی طرف متوجہ ہوئے اپنے آپ سے کہنے لگے تم تو خود ظالم ہو پھر ان کی گردانیں اسی گمرائی کی طرف مڑ گئیں اور وہ کہنے لگے کہ تم تو جانتے ہی ہو کہ یہ بُت بولا نہیں کرتے (انبیاء 64،65)
ضمناً کافروں کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے اس بیان سے اس کی "ثمہ" کے ساتھ ہم آہنگے زیادہ واضح ہو گئ 
ہے۔
   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
   ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ