طرح طرح کی مادؔی اور روحانی نعمتیں
وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۷۸أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۷۹وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ جُلُودِ الْأَنْعَامِ بُيُوتًا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَا أَثَاثًا وَمَتَاعًا إِلَىٰ حِينٍ ۸۰وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِمَّا خَلَقَ ظِلَالًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْجِبَالِ أَكْنَانًا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ ۸۱فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ۸۲يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ الْكَافِرُونَ ۸۳
اور اللہ ہی نے تمہیں شکم مادر سے اس طرح نکالا ہے کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اسی نے تمہارے لئے کان آنکھ اور دل قرار دئے ہیں کہ شاید تم شکر گزار بن جاؤ. کیا ان لوگوں نے پرندوں کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح فضائے آسمان میں مسخر ہیں کہ اللہ کے علاوہ انہیں کوئی روکنے والا اور سنبھالنے والا نہیںہے بیشک اس میں بھی اس قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھنے والی قوم ہے. اور اللہ ہی نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو وجہ سکون بنایا ہے اور تمہارے لئے جانوروں کی کھالوں سے ایسے گھر بنادئے ہیں جن کو تم روزِ سفر بھی ہلکاسمجھتے ہو اور روزِ اقامت بھی ہلکا محسوس کرتے ہو اور پھر ان کے اون, روئیں اور بالوں سے مختلف سامان هزندگی اور ایک مدّت کے لئے کارآمد چیزیں بنادیں. اور اللہ ہی نے تمہارے لئے مخلوقات کا سایہ قرار دیا ہے اور پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں بنائی ہیں اور ایسے پیراہن بنائے ہیں جو گرمی سے بچاسکیں اور پھر ایسے پیراہن بنائے ہیں جو ہتھیاروں کی زد سے بچاسکیں. وہ اسی طرح اپنی نعمتوں کو تمہارے اوپر تمام کردیتا ہے کہ شاید تم اطاعت گزار بن جاؤ. پھر اس کے بعد بھی اگر یہ ظالم منہ پھیر لیں تو آپ کا کام صرف واضح پیغام کا پہنچا دینا ہے اور بس. یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور پھر انکار کرتے ہیں اور ان کی اکثریت کافر ہے.
تفسیر:
طرح طرح کی مادؔی اور روحانی نعمتیں:
قرآن حکیم ایک درس توحید اور خدا شناسی کے لیے ایک مرتبہ پھر پروردگار کی گو نا گوں نعمتوں کا ذکرکرتا ہے اس میں سب سے پہلے علم و دانش اور معرفت و شناخت کے آلات کی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے شکم سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے(وَاللّـٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَيْئًا)۔
البتہ اس محدود، تاریک، وابستہ اور بندھے ہوئے ماحول میں یہ جہالت اور بے خبری گوارا تھی لیکن جب تم نے اس وسیع دنیا میں قدم رکھا اب ممکن نہ تھا یہ جہالت یونہی جاری رہے۔ لہذا ادراک حقائق اور شناخت موجودات کے لیے کان، آنکھ اور عقل جیسے وسائل تمھیں عطا کیے گئے (وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ) تاکہ تم ان عظیم نعمتوں کو سمجھ سکو اور انھیں عطا کرنے والے کے لیے تمھارے اندر احساس تشکر پیدا ہو "شاید تم اس کا شکر ادا کرو" (لَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ)۔
چند قابل توجہ نکات:
1- ابتداء میں انسان کچھ نہیں جانتا ہوتا: یہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ پیدائش کے وقت انسان بلکل کوئی علم نہیں رکھتا ہوتا لہذا وہ جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ ولادت کے بعد اللہ کے عطا کردہ وسائل سے حاصل کرتا ہے۔
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے وہ یہ کہ قرآن کہتا ہے بچہ جب حالت جنین سے نکلتا ہے اس وقت کچھ بھی نہیں جانتا ہوتا حالانکہ ہم کئی طرح کے فطری چیزوں کے حامل ہوتے ہیں۔ مثلاً خدا شناسی اور اسی طرح کئی واضح مسائل (جیسے متضاد چیزوں کاجمع نہ ہوسکنا۔ یا کل جزء سے بڑا ہوتا ہے) یا کئی اجتماعی اور اخلاقی مسائل (جیسےعدل اچھا ہے اور ظلم بُرا ہے) اور اس طرح کے کئی اور مسائل سے انسان فطری طور پر آگاہ ہوتا ہے کیونکہ یہ آگاہی تو ہماری فطرت میں رکھ دی گئی ہے تو پھر قرآن کیوں کہتا ہے کہ پیدائش کے وقت تم کچھ نہیں جانتے تھے۔
کیا ہمیں اپنے وجود کا علم بھی نہیں تھا کہ جو علم حضوری شمار ہوتا ہے اور وہ بھی کان، آنکھ اور عقل کے ذریعے ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
ان کی استعداد اور قوت انسان کے اندر موجود تھی۔ دوسرے لفظوں میں ولادت کے وقت ہم ہر چیز سے غافل تھے یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی۔ البتہ استعداد کے اعتبار سے بہت سے حقائق کا ادراک ہمارے اندر مخفی تھا۔ رفتہ رفتہ ہماری آنکھ میں قوت بینائی پیدا ہوئی۔ کان میں طاقت شنوائی پیدا ہوئی اور عقل نے ادراک، تجزیہ اور تحلیل کی قدرت حاصل کی اور ہم خدا کی ان تینوں نعمتون سے بہرہ مند ہوئے
پہلے پہل قوت حس کے ذریعے بہت سی چیزوں کے تصورات پیدا ہوئے وہ تصورات عقل کی طرف منتقل ہوئے۔ پھر ان سے کامل اور کامل تر مفاہیم بننے لگے اور تعمیم و تجرید کے ذریعے عملی حقائق تک ہماری رسائی ہوئی اس سفر سے گزرتی ہوئی ہماری قوت فکر اس مقام تک آ پہنچی ہے کہ ہم علم حضوری کے طور پر اپنے آپ سے آگاہ ہوتے ہیں پھر وہ علوم جو استعداد کے طور پر ہمارے اندر موجود ہیں ان میں جان پیداہوتی ہے اور وہ عملی شکل اختیار کرتے ہیں
ان یدیئ اور ضروری علوم کی بنیاد پر ہم نظری اور غیر یدہی علوم تک پہنچتے ہیں لہذا آیت میں جو ہمومیت پائی جاتی ہے اس میں تخصیص اور استثناء کی گنجائش نہیں اور اس بات کا مفہوم کلی ہے کہ "جب تمھیں پیدا کیا گیا تم کچھ نہ جانتے تھے"۔
2- آلات شناخت کی نعمت: اس میں شک نہیں کہ عالم خارج کے لیے ہمارے وجود کی داخلی دنیا کے لیے کوئی راستہ نہیں البتہ ہماری روح میں موجود مختلف آلات و وسائل کے ذریعے اس کی تصویر اور شکل نقش ہوتی ہے اس طرح خارجی دنیا سے ہماری شناخت آلات کے ذریعے ہوتی ہے اور ان آلات میں سے سب سے اہم کان اور آنکھ ہیں۔
بیرونی دنیا سے یہ آلات جو کچھ حاصل کرتے ہیں ہمارے ذہن اور فکر کی طرف منتقل کرتے ہیں اور ہم عقل و فکر کی قوت سے انھیں حاصل کرتے ییں اور اس کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں۔
اسی بنا پر زیر بحث آیت میں یہ بتانے کے بعد کہ انسان جب اس جہاں میں قدم رکھتا ہے تو اسے مطلقا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا قرآن مزید فرماتا ہے:۔
"اللہ نے تمھیں آنکھ، کان اور دل عطا کیے ہیں (تاکہ تم حقائق ہستی تک پہنچ سکو)"۔
یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے کان کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر آنکھ کا حالانکہ ظاہراً آنکھ کی کارکردگی کا دائرہ زیادہ وسیع ہے اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ نوزائیدہ بچے میں پہلے کان کارکردگی کا آغاز کرتا ہے اور آنکھیں کچھ مدت بعد دیکھنے لگتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ رحم مادر کی دنیا تو بلکل تاریک ہوتی ہے۔ ابتدائے تولد میں آنکھیں روشنی کی شعاعیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں یہ ہی وجہ ہے کہ ولادت کے بعد عام طور پر آنکھیں بند ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ روشنی کی عادی ہوتی ہیں اور ان میں دیکھنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے
جبکہ کان کے بارے میں بعض کا نظریہ ہے کہ وہ والم جنین میں بھی تھوڑا بہت سن لیتے ہیں اور بچہ ماں کے پیٹ میں اس کے دل کی دھڑکن سنتا ہے اور اس کا عادی ہوتا ہے۔
ان سب چیزوں سے قطع نظر انسان آنکھ کے ساتھ صرف حسی امور کو دیکھتا ہے جبکہ کان تمام پہلوؤں سے تعلیم و تربیت کا ذریعہ ہے۔ کان الفاظ سننے کے ذریعے تمام حقائق سے آشنا ہو جاتا ہے چاہے وہ حسی ہوں یا قوت حس کے دائرے سے باہر جبکہ آنکھ یہ وسعت عمل نہیں رکھتی یہ ٹھیک ہے کہ انسان آنکھ کے ذریعے الفاظ پڑھ کر ان مسائل سے آگاہ ہوجاتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ سب لوگ نہیں پڑھ سکتے جبکہ الفاظ سن کو سبھی سکتے ہیں۔
رہا یہ سوال کہ "سمع" مفر شکل میں اور "ابصار" (جو بصر کی جمع ہے) جمع کی شکل میں کیوں آیا ہے تو اس کی وجہ ہم پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیت کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ " فؤاد" اگرچہ "قلب" (عقل) کے معنی میں آیا ہے لیکن "قلب" سے اس کا فرق یہ ہے کہ "فواد" کے مفہوم میں جوش، جذبہ اور ولولہ پیدا ہونے کا مفہوم بھی شامل ہے یعنی تجزیہ و تحلیل اور تخلیق و ایجاد کا معنی بھی اس میں پنہاں ہیں۔
راغب مفردات میں کہتا ہے:
الفؤاد کا لقلب لکن یقال لہ فؤاد اذا اعتبر فیہ معنی التفؤد ای التوقد
"فؤا" "قلب" کی طرح ہے لیکن یہ لفظ وہاں بولا جاتا ہے جہاں اس سے روشنی دینا اور دل خستگی مراد ہو۔
یہ بات مسلًم ہے کہ یہ چیز کافی تجربے کے بعد انسان کے ہاتھ آتی ہے بہر حال شناخت کے آلات اگرچہ ان دو یا تین ہیں منحصر نہیں ہیں تاہم یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ اہم ترین آلات شناخت یہی ہیں کیوںکہ انسان کا علم تجربے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے یا عقلی استدلال کے ذریعے۔ ظاہر ہے کہ تجربہ آنکھ اور کان کے بغیر ممکن نہیں ہے رہے عقلی استلالات تو وہ " فؤاد" یعنی وقل کے ذریعے صورت پذیر ہوتے ہیں۔
3- تاکہ اس کا شکر بجا لاؤ: آلات شناخت بہت بلند اور عظیم نعمت ہے کہ جو انسان کو عطا کی گئی ہے کیوںکہ آنکھ اور کان سے انسان نہ صرف وسیع عالم ہستی میں آثار الٰہی دیکھتا ہے اور رہبران ِ الٰہی کی باتیں سنتا ہے اور دل کے ذریعے ادراک اور تجزیہ و تحلیل کرتا ہے بلکہ اس کی مادؔی زندگی میں بھی ہر قسم کی ترقی و تکامل انھیں تین وسائل کا مرہون ِ منؔت ہے اسی لیے ان کے ذکر کے ساتھ ہی فرمایا گیا ہے: " لعل کم تشکرون"۔
یہ جملہ ان تین چیزوں کی اہمیت یاد دلاتا ہے یعنی یہ وسائل تمھیں عطا کیے گئے ہیں تا کہ تم عالم اور آگاہ بنو اور اس کے بعد اس آگہی و علم پر شکر بجا لاؤ کہ جو حیوانوں سے تمھیں بہت ممتاز کرتا ہے اس میں شک نہیں کہ کوئی انسان ان عظیم نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکتا سوائے اس کے کہ بارگاہ ایزدی میں عذر کوتاہی پیش کرے۔
____________________
اس ک بعد کی آیت میں بھی وسیع علم ہستی میں چھپے ہوئے عظمت الٰہی کے اسرار کا ذکر جاری ہے ارشاد ہوتا ہے: کیا وہ ان پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ جو وسعت آسمان میں پرواز کرتے ہیں (الم یروا الی الطیر مسخرات فی جو السماء)۔
"جو" لغت میں فضا کے معنی میں ہے ( جیسا کہ مفردات میں راغب نے بیان کیا ہے) اور یا پھر یہ ہوا کا وہ حصہ ہے جو زیر زمین سے دور ہے (جیسا کہ تفسیر مجمع البیان، المیزان اور آلوسی میں بیان کیا گیا ہے)۔
اجسام کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کی طرف کھنچتے ہیں لہذا زمین سے اوپر پرندوں کی پرواز اور آمد و رفت کو "مسخرات" (تسخیر شدہ) کہا گیا ہے یعنی اللہ نے ان کے پروبال کو یہ قوت دی ہے اور ہوا میں ایک خاصیت پیدا کی ہے کہ جو ان کے لیے اسے ممکن بناتی ہے کہ کشش ثقل کے باوجود وہ فضا میں پرواز کرتے ہیں۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: خدا کے سوا کوئی انھیں فضا میں اس طرح روکے نہیں رکھ سکتا (ما یسکھن الا اللہ)۔
یہ ٹھیک ہے کہ پروبال کی طبعی خاصیت ان میں پیدا کئے گئے عضلات، پرندوں کی مخصوص شکل اور ہوا میں موجود خصوصیات نے باہم مل کر پرندوں کی پرواز کو ممکن بنایا ہے لیکن یہ شکل و صورت اور ان خواص کو کس نے پیدا کیا ہے اور اس گہرے حساب شدہ نظام کو کس نے مقرر کیا ہے کیا اندھی گونگی طبیعت نے یا اس ذات نے کہ جو اجسام کے تمام طبیعاتی خواص سے آگاہ ہے اور جس کا لا متناہی عل ان سب پر محیط ہے۔
یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام امور کی خدا کی طرف نسبت دی جاتی ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ وہی ان سب کا سر چشمہ ہے ایسی تعبیرات کہ جن میں اسباب و علل اور خواص کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے قرآن حکیم میں بہت ہیں۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اس امر میں اللہ کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یؤمنون)۔
یعنی جو مثل شیان ِ حق ان امور کو چشم بصیرت سے دیکھتے ہیں اور ان کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں ان کا ایمان ان سے زیادہ قوی اور راسخ تر ہے۔
چند قابل ِ غور نکات:
1- فضائے آسمانی میں پرندوں کی پرواز کے اسرار:- اس بات کو سمجھنا آسان ہے کہ جہان ِ ہستی کی بہت سی چیزیں ہمیں زیادہ حیرت میں کیوں نہیں ڈالتیں مسئلہ یہ ہے کہ ہم انھیں دیکھتے رہتے ہیں اور ان کے عادی ہو چکے ہیں اس عادت نے در حقیقت ان طرح طرح کی حیران کن چیزوں کے درمیان ایک پردہ سا حائل کردیا ہے۔
اگر ہم اپنے ذہن کو اس عادی زندگی سے نکال لیں تو ہمیں اپنے گردا گرد بہت سی حیران کن چیزیں دکھائی دیں۔
پرندوں کی پرواز کا مسئلہ بھی ایسے ہی امور میں سے ہے۔ بھاری جسم کشش ِ ثقل کے قانون کے بر خلاف آسانی سے چلتے پھرتے ہیں کتنی جلدی سے وہ بلند جا پہنچتے ہیں اور دیکھتے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ یہ بات کوئی سیدھی سادی نہیں ہے۔
اگر ہم پرندوں کی ساخت اور ان کے جسم کو ہر حوالے سے غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان کا پورا جسم پرواز کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
ان کے جسم کی مخروطی شکل کہ جوان کے بدن پر ہوا کا دباؤ بہت کم کر دیتی ہے ہلکے پھلکے پر اور اس کے ساتھ ساتھ نچلی طرف ان کا چوڑا سینہ سب مل کر انھیں امواج ِ ہوا پر سوار ہونے کے قابل بناتے ہیں اور ان کے پروں کی خصوصی ساخت کہ جو ان کو اوپر اٹھنے کی طاقت بخشتے ہیں۔ 1؎
نیز ان کی دم کی مخصوص ساخت کہ جو ان کے دائیں بائیں اور اوپر نیچے تیزی سے حرکت کے لیے ( ہوائی جہاز کی دم کی طرح) مدد کرتی ہے۔ ان کی قوت ِ نظر اور دیگر حواس ایسے ہم آہنگ ہیں کہ جو ان کی تیز اور سریع پرواز کو ممکن بناتے ہیں۔
ان سب چیزوں کے علاوہ ان کے بچوں کی پرورش ان کے وجود سے الگ ہوتی ہے کہ جو انڈوں میں سے نکلتے ہیں ظاہر ہے انھیں اٹھائے پھرنا پرواز کے لیے رکاوٹ ہوتا۔
ان کے علاوہ بھی بہت سے امور ہیں کہ جن میں سے ہر ایک فزکس کے اصول کے تحت پرواز کے لیے بہت مؤثر ہے۔
ان سب کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انھیں پیدا کرنے والے نے کس قدر وسیع علم و قدرت سے کام لیا ہے۔
قرآن کے بقول:- ان فی ذالک لاٰیات لقوم یؤمنون۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1؎ اوپر اٹھنے کی طاقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ فزکس میں نئ اصطلاح ہے کہ جو ہوائی جہازوں کے امور میں استعمال ہوتی ہے۔ مختصر اس کے بارے میں یہ ہے کہ ایک جسم کی اگر وہ مختلف سطہیں ہوں(جیسے ہوائی جہاز کی ہوتی ہیں کہ جس کی نچلی سطح سیدھی ہوتی ہے اور بالائی سطح اوپر کو اٹھی ہوئی خمدار ہوتی ہے) تو ایسا جسم اگر افقی حرکت کرے تو اس کے اندر ایک خاص قسم کی قوت (ENERGY) پیدا ہوتی ہے جو اسے بلند سطح کی طرف لے جاتی ہے یہ قوت اس لیے ہوتی ہے کہ ہوا کا دباؤ بالائی سطح کی نسبت نچلی سطح پر زیادہ ہوتا ہے کیونکہ نیچے والی سطح چھوٹی ہوتی ہے اور اوپر والی سطح زیادہ لمبی ہوتی ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ ہوائی جہازوں کی حرکت کا دارو مدار اسی پر ہے اگر ہم پرندوں پر توجہ کریں تو ان میں یہ امر بہت وضاحت سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اصولی طور پر ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہوائی جہاز کی ساخت میں پرندوں کی ساخت کی تقلید کی گئی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بے شک اس میں اہل ایمان کے لیے اللہ کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہیں۔
پرندوں کی دنیا کے عجائبات اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ ایک یا چند کتب میں سما سکیں دور حاضر میں بہت سے پرندوں کو ہم مہاجر پرندوں کے نام سے پہچانتے ہیں یہ پرندے زندگی کی بقاء کے لیے دنیا کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات شمال سے جنوب تک کا بہت ہی طولانی خاصلہ طے کرتے ہیں اور دور دراز کے اس سفر میں انتہائی رمز آمیز وسائل سے راہنمائی
حاصل کرتے ہیں ان کی مدد سے پہاڑوں، صحراؤں، بیابانوں اور دریاؤں میں اپنا راستہ ڈھونڈھ لیتے ہیں یہاں تک کہ ابر آلود دنو میں اور کبھی تاریک راتوں میں بھی راہ تلاش کر لیتے ہیں کہ جن میں کوئی انسان اپنا راستہ تلاش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
بعض اوقات تو یہ ہوتا ہے کہ وہ آسمان کی پہنائیوں میں محو ِ خواب بھی ہوتے اور محو پرواز بھی بعض اوقات بغیر کسی لمحہ بھر توقف کے کئی کئی ہفتے رات دن محو ِ پرواز رہتے ہیں یہاں تک کہ انھیں کھانے پینے کی احتیاج بھی نہیں ہوتی کیونکر وہ پرواز سے پہلے ایک اندرونی راہنمائی کے ذریعے خوب کھا پی لیتے ہیں یہ غذا بھی چربی کی شکل میں ان کے جسم میں اسٹور ہو جاتی ہے اور راستے میں انھیں ضرورت نہیں پڑتی۔
اسی طرح گھر بنانے، اولاد کی تربیت کرنے، دشمن کا مقابلہ کرنے اور ضروری غذا مہیا کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے بلکہ اپنی نوع کے علاوہ غیر سے تعاون اور اکٹھے زندگی گزارنے اور اس قسم کے دیگے بہت سے امور میں پرندوں کی زندگی کے ایسے ایسے اسرار ہیں کہ ان میں ہر ایک ایک طویل داستان ہے۔
جی ہاں: جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا آیت میں پڑھا ہے:
ان میں سے ہر ایک میں عظمت پروردگار اور اس کے لا متناہی علم و قدرت کی نشانیاں ہیں۔
2- آیات کا باہمی ربط:- اس میں شک نہیں کہ پرندوں کے پرواز کے بارے میں زیر بحث آیت اور اس سے آگے پیچھے کی آیات میں تعلق ہے کہ سب کی سب جہان ِ خلقت میں نعمات ِ الٰہی کے مختلف پہلوؤں اور اس کی قدرت و عظمت کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں لیکن یہ احتمال بھی زیادہ بعید نہیں کہ آلات ِشناخت کے ذکر کے بعد پرندوں کی پرواز کا ذکر یہ لطیف نکتہ ہو کہ علم محسوس میں ان پرندوں کی پرواز کو علم ِ غیر محسوس میں افکار و خیالات کی پرواز سے تشبیہ دی گئی ہو۔ یعنی ان میں سے ہر ایک اپنے آلات کے ساتھ اپنی اپنی مخصوس فضا میں پرواز کرتے ہیں۔
خطبہ شقسقیہ میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
ینحدر عنی السیل ولا یرتی الی الطیر
علم و دانش کی آبشار میرے وجود کے کوہسار سے گرتی ہے اور بلند افکار اس کی چوٹی تک نہیں پہنچ پاتیں۔
آپ کے کلمات قصار میں ہے کہ آپ نے مالک شتر جیسے جانباز افسر کی فضیلت میں فرمایا: لا یرتقیہ الحافر ولا یو فی علیہ الطائر
کوئی رہوار اس کے کوہسار ِ وجود سے اوپر نہیں جا سکتا اور کوئی طائر ِ فکر اس کی بلندی کو چھو نہیں سکتا۔1؎
جیسا کہ یم نے اس سورہ کی ابتداء میں کہا تھا کہ اس کا ایک نام نعمتوں کی سورت ہے کیونکہ اس میں پروردگار کی کوئی پچاس روحانی اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے یہ نعمتیں اس کی ذات پاک کی شناسائی کی دلیل بھی ہیں اور ان کا ذکر اس کی شکر گذاری کا سبب بھی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زیر بحث تیسری آیت میں بھی اس مسئلے پر گفتگو جاری ہے، ارشاد ہوتا ہے: اور اللہ نے تمھارے لیے تمھارے بعض گھروں میں سے آرام و قیام کی جگہ قرار دیا ہے ( واللہ جعل لکم من بیوتکم مسکناً)۔
حقیقت یہ ہے کہ گھر اور مسکن ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ جب تک یہ میسر نہ ہو پاتی نعمتوں کا کوئی لطف نہیں۔
لفظ "بیوت" "بیت" کی جمع ہے یہ کمرے یا گھر کے معنی میں ہے یہ " بیتوتہ" کے مادہ سے ہے کہ جو دراصل رات میں توقف کرنے کے معنی میں ہے اور چونکہ انسان اپنے کمرے اور گھر سے زیادہ تر رات کو آرام کرنے کے لیے استفادہ کرتا ہے لہذا اس پر لفظ " بیت" کا اطلاق ہوا ہے۔
اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ میں نے تمھارے گھروں کو تمھارے لیے مقام ِ سکونت قرار دیا ہے بلکہ لفظ "من" کہ جو تبعیض یعنی بعض کے لیے آتا ہے استعمال ہوا ہے یعنی تمھارے کمروں اور گھروں میں مقام ِ سکونت قرار دیا ہے۔
یہ تعبیر بہت معنی خیز ہے کیوںکہ پورے گھر کے تو اور بھی بہت سے فائدے ہوتے ہیں اس میں مقام سکونت بھی ہوتا ہے سواری کے ٹھہرانے کی جگہ بھی، ضروریات زندگی رکھنے کے لیے سامان وغیرہ بھی۔
ثابت اور ٹھہرے ہوئے گھروں کے ذکر کے بعد سیؔار اور چلتے پھرتے گھروں کا ذکر آتا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے: اللہ نے یہ جانوروں کی کھالوں سے تمھارے لیے خیمے بنائے (وجعل لکم من جلود الانعام بیوتاً)۔ اور یہ ایسے گھر ہیں کہ جو بہت ہلکے پھلکے ہیں۔ کوچ اور قیام کے وقت انھیں آسانی سے ایک جگلہ سے دوسری جگلہ لے جایا جا سکتا ہے ( تستخنو نھا یوم ظعنکم ویوم اقامتکم)۔
علاوہ ازیں ان سے حاصل ہونے والی اُون، روئی اور بالوں سے تمھارے لیے ایک معین وقت تک کے لیے بہت سے اسبا، وسائل ِ زندگی اور کار آمد چیزیں پیدا کی ہیں (ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا اثاثا و متاعاً الی حین)۔
ہم جانتے ہیں کہ چوپایوں کے بدن پر جو بال اگتے ہیں ان میں سے بعض بہت سخت اور موٹے ہوتے ہیں مثلاً بکری کے بال کہ جنھیں عرب " شعر" کہتے ہیں (اشعار اس کی جمع ہے) اور کبھی کچھ نرم ہوتے ہیں جنھیں پشم یا اون کہتے ہیں عرب انھیں صوف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1؎ نہج البلاغہ کلمات قصار ص 443۔
2؎ اگرچہ ہمارے زمانے میں چمڑے سے بہت کم خیمے بنائے جاتے ہیں لیکن زیر نظر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں چمڑے کے خیموں کو بہترین سمجھا جاتا تھا(اسی لیے قرآن نے اس انداز سے ان کا ذکر کیا ہے۔ شاید خیمے سے چمڑے اس لیے بنائے جاتے تھے کہ حجاز کے بیابانوں کی نہایت گرم ہواؤں سے بچنے کے لیے ایسے خیمے زیادہ مفید تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کہتے (اصواف اس کی جمع ہے) اور کبھی بہت ہی نرم ہوتے ہیں فارسی میں انھی " کرک" کہتے ہیں۔ عرب انھیں " وبر" (بروزن "ظفر") کہتے ہیں (اوبار اس کی جمع ہے)۔
واضح ہے کہ مختلف ساخت اور نوعیت کے ہونے کی وجہ سے ان بالوں کو مختلف کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے کسی سے قالین بنتے ہیں کسی سے لباس اور کسی سے خیمے وغیرہ۔
اس بارے میں کہ آیت میں "اثاث" اور "متاع" سے کیا مراد ہے مفسرین نے مختلف احتمالات ذکر کیے ہیں مجموعی طور پر "اثاث" گھر کے ساز و سامان چونکہ عموماً زیادہ ہوتا ہے لہذا اسے "اثاث" کہتے ہیں۔
"متاع" ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان "متمتع" ہو اور فائدے اٹھائے۔ لہذا یہ دونو تعبیریں دو مختلف زاویوں سے ایک ہی مطلب کی نشاندہی کرتی ہیں۔
جو کچھ کہا جا چکا ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ان دو تعبیروں کا یکے بعد دیگرے آنا، ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ تم چوپایوں کی اُون، روئی کے سے نرم اور دوسے بالوں سے اپنے گھر کے لیے درکار بہت سا سازوسامان تیار کرسکتے ہو اور اس طرح ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
فخر الدین رازی اور بعض اور مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ "اثاث" سے مراد لباس ہے اور "متاع" سے زمین پر بچھانے والی چیز ہے لیکن انھوں نے اس کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔
"روح المعانی" میں آلوسی نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ " اثاث" گھر کے سامان کی طرف اشارہ ہے اور "متاع" مال ِ تجارت کی طرف اشارہ ہے۔
البتہ ہم جو شروع میں کہہ چکے ہیں وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"الیٰ حین" کے مفہوم کے بارے میں بھی مختلف تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ لیکن ظاہراً اس سے مراد یہ ہے کہ تم اس دنیا اور زندگی کے اختتام تک ان چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ گے یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی اور اسباب جاودانی نہیں ہیں اور یہاں کی ہر چیز محدود ہے۔
سائے، گھر اور لباس:-
اس کے بعد ایک اور نعمت ِ الٰہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: ارشاد ہوتا ہے: خدا نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں تمھارے لیے سائے بھی بنائے ہیں(واللہ جعل لکم مما خلق ظللاً) اور پہاڑوں میں تمھارے لیے پناہ گاہیں بنائی ہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1؎ یہ لفظ "روئی" کے گالوں کی طرح نرم بالوں کے لیے آیا ہے۔ (ث-ن)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(وجعل لکم من الجبال اکناناً)
"اکنان" کِن" (بروزن "جن") کی جمع ہے یہ لفظ کسی ایسی چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ڈھانپنے اور حفاظت کے لیے استعمال ہوئی ہو۔ پہاڑوں کے اندر موجود مخفی جگہوں، غاروں اور پناہ گاہوں کو اسی لیے "اکنان" کہا جاتا ہے۔
یہاں ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ درختوں کے سائے ہوں یا پہاڑوں کے۔۔۔ سائے کا مجموعی طور پر ایک اہم نعمت کے عنوان سے ذکر کیا جا رہا ہے اور حقیقت بھی یہ ہی ہے کیونکہ انسان کو جس طرح زندگی میں روشنی کی چمک کی ضرورت ہے بہت سے اوقات میں سائے کی بھی احتیاج ہے اس لیے کہ روشنی اگر ایک ہی طرح چمکتی رہے تو زندگی نا ممکن ہوجائے اور ہم جانتے ہیں ہم زمین باسیوں کے لیے سب سے بڑا سایہ کرۤۂ زمین کا سایہ ہے کہ جسے "رات" کہتے ہیں۔ یہ سایہ سطح زمین کے نصف حصے کو چھپا دیتا ہے۔ انسانی زندگی پر اس عظیم سائے کی تاثیر کسی سے مخفی نہیں ہے۔ اسی طرح دن کے اوقات میں مختلف چیزوں کے چھوٹے بڑے سایوں کے اثرات اور فوائد بھی ہمارے سامنے واضح ہیں۔
گھروں اور خیموں کی نعمت کا ذکر کرنے کے بعد سایوں اور پہاڑی پنا گاہوں کی نعمت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ گویا یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انسانوں کے تین ہی گروہ ہو سکتے ہیں۔ ایک بستیوں اور آبادیوں میں رہنے والا۔ دوسرا کہ سفر میں اور خیمے اس کے ساتھ ہوں اور تیسرا ان مسافروں کا گروہ کہ جن کے پاس خیمے نہ ہوں۔ خدا نے انھیں بھی محروم نہیں کیا بلکہ انھیں راہوں میں پنا گاہیں مہیا کی ہیں۔
ہو سکتا ہے شہروں میں آراپم کی زندگی گزارنے والوں پر غاروں اور کوہستانی پنا گاہوں کی اہمیت بلکل واضح نہ ہو لیکن بیابانوں میں پھرنے والے بے امان مسافروں اور چرواہوں کو ان کی قدر معلوم ہے وہ تمام لوگ کہ جن کے پاس نہ ثاپت گھر ہوں
اور نہ سیار اور سورج کی تیز دھوپ یا سردیوں کی شدید لہر سے دوچار ہوں وہ جانتے ہیں کہ ایک کوہستانی پناہ گاہیں سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں سرد ہوتی ہیں۔
ان فطری اور مصنوعی سائبانوں کے ذکر کے بعد انسان کے لباس کا ذکر کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: خدا نے تمھیں لباس عطا کیے ہیں کہ جو گرمی سے تمھیں بچاتے ہیں (وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر)۔
اور اسی طرح ایسے خاص دفاعی لباس بھی عطا کیے ہیں کہ جو جنگ کے موقع پر تمھاری حفاظت کرتے ہیں (وسرابیل تقیکم باسکم)۔
"سرابیل" "سربال" (بروزن "مثقال") کی جمع ہے۔ مفردات میں راغب نے اس کا معنی پیراہن اور قمیص بیان کیا ہے چاہے وہ کسی چیز کی بھی بنی ہو۔ دیگرمفسرین بھی اس معنی کی تائید کی ہے البتہ بعض مفسرین نے اسے ہر طرح کے لباس کے معنی میں لیا ہے لیکن پہلا معنی ہی مشہور ہے۔
البتہ لباس کا صرف یہ ہی فائدہ نہیں کہ وہ گرمی اور سردی میں انسان کی حفاظت کرتا ہے بلکہ یہ انسان کے وقار کا بھی باعث سے اور جسم ِ انسانی کو بہت سے خطرات سے بچائے رکھتا ہے۔ کیوںکہ انسان برہنہ پو تو شاید اس کے بدن کا کوئی نہ کوئی حصہ ہر روز زخمی ہوجائے لیکن مندرجہ بالا آیات میں لباس کا جو فائدہ بیان کیا گیا ہے وہ اہمیت کے لحاظ سے ہے۔
یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ آیت میں صرف گرمی سے بچانے کا ذکر کیا گیا ہے شاید یہ اس لیے ہو کہ بہت سے مواقع پر عرب اختصار کے طور پر دو ضدوں میں سے ایک کا ذکر کرتے ہیں اور دوسری پہلی کے قرینے سے واضح ہوجاتی ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اس بناء پر ہو کہ قرآن جن علاقوں میں نازل ہوا تھا وہاں گرمی سے بچانے کا مسئلہ زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔
یہ احتمال بھی ہے کہ گرمی لگنے اور سورج کی تیز حدت کے خطرات زیادہ سریع اور زیادہ خطرناک ہوتے ہیں دوسرے لفظوں میں شدید گرمی اور سورج کی شدید تپش کے سامنے انسان کی قوت برداشت سردی کے مقابلے میں قوت برداشت کی نسبت کم ہوتی ہے کیوںکہ سردی میں انسان کی اندرونی حرارت بہت حد تک اس کی حفاظت کرسکتی ہے جبکہ گرمی کے مقابلے میں اس کی قوت مدافعت بہت کم ہوتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آیت کے آخر میں یدا دہانی اور تنبیہ کے طور پر فرمایا گیا ہے: اس طرح سے اللہ تم سب پر اپنی نعمت کو پورا کرتا ہے کہ شاید تم اس کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کردو (کذالک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلم ون)۔
یہ ایک فطری امر ہے کہ انسان جب دیکھتا ہے کہ بہت سی نعمتیں اس کے وجود کو گھیرے ہوئے ہیں تو بے اختیار اس کا خیال ان نعمتوں کو بخشنے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے اور اگر اس طرح اس کے اندر قدر دانی اور شکر گزاری کا کچھ بھی احساس پیدا ہو جائے تو وہ معطی نعمت کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
لفظ "نعمت" کہ جو مذکورہ بالا آیت میں آیا ہے بعض مفسرین نے اسے نعمت ِ خلقت، نعمت ِ تکامل، نعمت ِ عقل، نعمت ِ توحید شناسی یا نعمت ِ وجود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں محدود سمجھا ہے لیکن واضح ہے کہ یہاں یہ لفظ ایک وسیع معنی کا حامل ہے کہ جس میں یہ تمام مذکورہ نعمتیں اور ان کے علاوہ دیگر نعمتیں بھی شامل ہیں۔ محدودیت والی یہ تفاسیر دراصل نعمت کے واضح مصادیق کی طرف اشارہ سمجھی جانا چاہییں۔
ان ظاہر و مخفی نعمتوں کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے: ان تمام امور کے باوجود اگر وہ روگردانی کریں اور دعوت ِ حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں تو تم پریشان نہ ہونا۔ کیںکہ تمھاری ذمہ داری تو بس یہ ہے کہ واضح طور پر ابلاغ کردو (فان تولوا فانما علیک البلاغ المبین)۔
کہنے والے کی بات کتنی ہی استدلالی، مؤثر اور جاذب کیوں نہ ہو جب تک سننے والا مائل نہ ہو، اثر نہیں کرسکتی۔
دوسرے لفظوں میں اہلیت مقام بھی شرط ہے اور ہر بات اس کے اہل پرہی اثر ہوتی ہے لہذا اگر کوردل، ہٹ دھرم تیری دعوت تسلیم نہیں کرتے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ تو بلاغ ِ مبین میں کسر نہ چھوڑے اور سب کے سامنے اپنی دعوت کُھلے بندوں پیش کرے۔
یہ جملہ در حقیقت رسول ِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دلجوئی اور تسلی ِ خاطر کے لیے ہے۔
بات پوری کرنے کے لیے مزید فرمایا گیا ہے: وہ نعمت ِ الٰہی کو پہچانتے ہیں اس کے پہلوؤں اور وسعت سے آشناہیں اور اس کی گہرائی کو جان چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا انکار کرتے ہیں (یعرفون نعمت اللہ ثمہ ینکرونھا)۔
لہذا ان کے کفر کا سبب نا آگاہی اور بے علمی میں تلاش نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ کافی حد تک آگاہ ہو چکے ہیں اس کفر کا باعث ان کی کوئی اور پست صفات ہیں کہ جو ان کے ایمان میں مدّ راہ بنی ہوئی ہیں اور وہ ہیں اندھا تعصب، ہٹ دھرمی، حق دشمنی، مادّی زندگی کے تھوڑے سے مفادات کو ہر چیز پر مقدم کرنا، طرح طرح کی خواہشات میں اسیری اور تکبر۔
شاید اسی بناء پر آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: اور ان میں سے اکثر کافی ہیں(واکثرھم الکافرون)۔
لفظ "اکثرھم" نے بہت سے مفسرین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور انھعں نے سوچا ہے کہ یہاں "اکثر" کا لفظ کیوں آیا ہے ہر مفسر نے اس کی کوئی نہ کوئی تفسیر بیان کی ہے لیکن ان میں سے ہمیں جو زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے وہ وہی ہے جو سطور ِ بالا میں بیان کی گئی ہے یعنی ان کفار کی اکثریت ہٹ دھرم، معاند اور متعصب ہے اور ان میں سے جو غلط فہمی کا شکار ہیں، وہ اقلیت میں ہیں۔
وہ کفرجو تکبر کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کا ذکر قرآن ِ حکیم کی دیگر آیات میں بھی دکھائی دیتا ہے مثلاً شیطان کے بارے میں ہے:-
ابی واستکبر وکان من الکافین
ابلیس نے حکم ماننے سے انکار کردیا اور تکبر انکار کیا اور وہ کافروں میں سے تھا۔ (بقرہ 34)
کچھ مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "اکثر" سے مراد وہ افراد ہیں کہ جن پر تمام حجّت ہو چکا تھا جبکہ جن پر ابھی تک اتمام ِ حجّت نہیں ہوا وہ اقلیت میں تھے اس معنی کو بھی پہلے معنی کے ذیل میں دیکھا جا سکتا ہے۔