سوره نحل/ آیه 38 - 40
وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ ۚ بَلَىٰ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۳۸لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كَانُوا كَاذِبِينَ ۳۹إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ۴۰
ان لوگوں نے واقعی اللہ کی قسم کھائی تھی کہ اللہ مرنے والوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ہے حالانکہ یہ اس کا برحق وعدہ ہے یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت سے باخبر نہیں ہیں. وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کے لئے اس امر کو واضح کردے جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں اور کفار کو یہ معلوم ہوجائے کہ وہ واقعی جھوٹ بولا کرتے تھے. ہم جس چیز کا ارادہ کرلیتے ہیں اس سے فقط اتنا کہتے ہیں کہ ہوجا اور پھر وہ ہوجاتی ہے.
۳۸۔ وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَھدَ اٴَیْمَانِھمْ لاَیَبْعَثُ اللهُ مَنْ یَمُوتُ بَلَی وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ۔
۳۹۔ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ الَّذِی یَخْتَلِفُونَ فِیہِ وَلِیَعْلَمَ الَّذِینَ کَفَرُوا اٴَنّھُمْ کَانُوا کَاذِبِینَ ۔
۴۰۔ إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ إِذَا اٴَرَدْنَاہُ اٴَنْ نَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ۔
ترجمہ
۳۸۔ انہوں نے تاکید سے قسم کھا کر کہا کہ مر جانے والوں کو خدا ہر گز مبعوث نہیں کرے گا ۔ جی ہاں ! یہ خدا کاقطعی وعدہ ہے ( کہ وہ تمام مرنے والوں کو پھر سے زندہ کرے گا ) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
۳۹۔ مقصد یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں وہ اختلاف کرتے تھے وہ ان کے سامنے واضح کر دی جائے تاکہ انکار کرنے والے جان لیں کہ وہ جھوٹ بولتے تھے ۔
۴۰۔ ( معاد و قیامت ہمارے لئے مشکل نہیں ہے کیونکہ ) ہم جس وقت کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف کہتے ہیں کہ ہو جا، تو وہ فوراً ہو جاتی ہے ۔