۲۔ ہر امت کے لئے ایک رسول
هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ۳۳فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۳۴وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ۳۵وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ۳۶إِنْ تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ يُضِلُّ ۖ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ۳۷
کیا یہ لوگ صرف اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس ملائکہ آجائیں یا حکم پروردگار آجائے تو یہی ان کے پہلے والوں نے بھی کیا تھا اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہے بلکہ یہ خود ہی اپنے نفس پر ظلم کرتے رہے ہیں. نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اعمال کے بفِے اثرات ان تک پہنچ گئے اور جن باتوں کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے ان ہی باتوں نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور پھر تباہ و برباد کردیا. اور مشرکین کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو ہم یا ہمارے بزرگ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی شے کو حرام قرار دیتے - اسی طرح ان کے پہلے والوں نے بھی کیا تھا تو کیا رسولوں کی ذمہ دری واضح اعلان کے علاوہ کچھ اور بھی ہے. اوریقینا ہم نے ہر امّت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو پھر ان میں بعض کو خدا نے ہدایت دے دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی تو اب تم لوگ روئے زمین میں سیر کرو اور دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے. اگر آپ کو خواہش ہے کہ یہ ہدایت پاجائیں تو اللہ جس کو گمراہی میں چھوڑ چکا ہے اب اسے ہدایت نہیں دے سکتا اور نہ ان کا کوئی مدد کرنے والا ہوگا.
۲۔ ہر امت کے لئے ایک رسول : زیر بحث آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ہم نے ہر امت میں ایک رسول مبعوث کیا ہے ۔
یہاں سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اگر ہر امت میں رسول بھیجا گیا ہے تو پھر دنیا کے تمام ممالک میں پیغمبر مبعوث ہوئے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کم از کم امت ہے حالانکہ تاریخ اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی ۔
ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ انبیاء بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ خدائی دعوت امتوں کے کانوں تک پہنچ جائے ورنہ ہم جانتے ہیں کہ جس زمانے میں پیغمبر اسلام نے مکہ یا مدینہ میں قیام کیا تھا حجاز کے دوسرے شہروں میں کوئی پیغمبر نہیں تھا لیکن رسول اللہ نے اپنے نمائدے ان علاقوں میں بھیجے تھے ان نمائندوں نے رسول اللہ کی آواز ان سب کے کانوں تک پہنچائی علاوہ ازیں خود رسول اللہ نے خطوط لکھے اور مختلف ممالک مثلاًایران، روم اور حبشہ کی طرف قاصد روانہ کئے اس طرح ان تک پیغام الہٰی پہنچایا گیا ۔
اس وقت ہم بھی ایک امت ہیں ہم نے صد یوں بعد پیغمبر اسلام کی دعوت آپ کا پیغام لانے والے علماء کے ذریعے سنی ہے ۔
ہر امت میں رسول بھیجنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
1۔آیت کے آخر میں گمراہوں کو بیدار کرنے اور ہدایت یافتہ افراد کی روحانی تقویت کے لئے ایک عمومی حکم صادر فرمایا گیا ہے : زمین میںچلو پھرواور صفحہ زمین پر با تہِ خاک چھپے ہوئے گزشتہ لوگوں کے آثار کا مطالعہ کرو اور دیکھو آیاتِ الہٰی کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ( فَسِیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ ) ۔