شان نزول
وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ ۚ بَلَىٰ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۳۸لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كَانُوا كَاذِبِينَ ۳۹إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ۴۰
ان لوگوں نے واقعی اللہ کی قسم کھائی تھی کہ اللہ مرنے والوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ہے حالانکہ یہ اس کا برحق وعدہ ہے یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت سے باخبر نہیں ہیں. وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کے لئے اس امر کو واضح کردے جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں اور کفار کو یہ معلوم ہوجائے کہ وہ واقعی جھوٹ بولا کرتے تھے. ہم جس چیز کا ارادہ کرلیتے ہیں اس سے فقط اتنا کہتے ہیں کہ ہوجا اور پھر وہ ہوجاتی ہے.
پہلی آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں مفسرین نقل کرتے ہیں :
ایک مسلمان نے کسی مشرک سے کچھ لینا تھا جب اس نے مطالبہ کیا تو اس نے قرض ادا کرنے میں لیت و لعل کی ۔ مسلمان پریشان ہوا، اس نے دورانِ گفتگو قسم کھائی :
اس چیز کی قسم کہ جس کے انتطار میں ہوں
( اس کا مقصد قیامت اور حسابِ خدا تھا )مشرک کہنے لگا :
”تم سمجھتے ہو کہ ہم موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے ۔ و اللہ وہ کسی مردہ کو زندہ نہیں کرے گا ۔
( ا سکے بعد یہ بات اس لئے کہی کیونکہ ان لوگوں کا خیال تھا کہ مردوں کی بازگشت اور حیاتِ نو فضول یا محال بات ہے ) ۔
اس کے بعد اس بات پر یہ آیت نازل ہو ئی اس میں اسے اور اسے جیسے افراد کو جواب دیا گیا ہے اور مسئلہ معاد کو واضح دلیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ 1
1۔ تفسیر مجمع البیان ، تفسیر قرطبی اور تفسیر ابو الفتوح رازی ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔