Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ ”بلاغ مبین “ کیا ہے

										
																									
								

Ayat No : 33-37

: النحل

هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ۳۳فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۳۴وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ۳۵وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ۳۶إِنْ تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ يُضِلُّ ۖ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ۳۷

Translation

کیا یہ لوگ صرف اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس ملائکہ آجائیں یا حکم پروردگار آجائے تو یہی ان کے پہلے والوں نے بھی کیا تھا اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہے بلکہ یہ خود ہی اپنے نفس پر ظلم کرتے رہے ہیں. نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اعمال کے بفِے اثرات ان تک پہنچ گئے اور جن باتوں کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے ان ہی باتوں نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور پھر تباہ و برباد کردیا. اور مشرکین کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو ہم یا ہمارے بزرگ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی شے کو حرام قرار دیتے - اسی طرح ان کے پہلے والوں نے بھی کیا تھا تو کیا رسولوں کی ذمہ دری واضح اعلان کے علاوہ کچھ اور بھی ہے. اوریقینا ہم نے ہر امّت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو پھر ان میں بعض کو خدا نے ہدایت دے دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی تو اب تم لوگ روئے زمین میں سیر کرو اور دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے. اگر آپ کو خواہش ہے کہ یہ ہدایت پاجائیں تو اللہ جس کو گمراہی میں چھوڑ چکا ہے اب اسے ہدایت نہیں دے سکتا اور نہ ان کا کوئی مدد کرنے والا ہوگا.

Tafseer

									۱۔ ”بلاغ مبین “ کیا ہے :آیات بالا میں بتا یا گیا ہے کہ تمام انبیاء کی ذمہ داری ” بلاغ ِ مبین “ہے ۔ 
فھل علی الرسل الاالبلاغ المبین 
یعنی ہادیان الہٰی محدود وقت کے سوا اپنی دعوت مخفی طور پرجاری نہیں رکھ سکتے ۔ مخفی کام اور وہ بھی دعوت رسالت کے زمانے میں قابل قبول اور نتیجہ بخش نہیں ہو سکتا ایسی صراحت کہ جس میں رشد و ہدایت اور قاطعیت ہو تدبیر کے ساتھ ساتھ اس دعوت کی شرط ہے ۔ 
اسی بناء پر تاریخ شاہد ہے کہ تمام انبیاء اگر چہ وہ عام طور پر تنہا ہوتے تھے اپنی دعوت صراحت اور وضاحت سے پیش کرتے تھے اور اس سلسلے میں ہر قسم کی مشکلات کے لئے تیار رہتے تھے اور یہی تمام حقیقی رہبروں کا دستور العمل ہے چاہے وہ انبیاء و مرسلین ہوں یا ان کے علاوہ ۔ کیونکہ خاموش رہنے سے دعوت کو کوئی قبول نہیں کرتا اور نہ ہی دو مختلف پہلو رکھنے والی باتوں سے کوئی استفادہ پاتا ہے ۔ حقیقی رہبر حقیقت بیان کرنے کے لئے کوئی چیز فروگذاشت نہیں کرتے وہ اس صراحت اور قاطعیت کے تمام نتائج بھی دلوں جان سے قبول کرتے ہیں ۔