۵۔آئیے اس دنیا میں تعمیر جنت کریں
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۴۵ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ ۴۶وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ۴۷لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ۴۸نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۴۹وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ ۵۰
بیشک صاحبان ه تقوٰی باغات اور چشموں کے درمیان رہیں گے. انہیں حکم ہوگا کہ تم ان باغات میں سلامتی اور حفاظت کے ساتھ داخل ہو جاؤ. اور ہم نے ان کے سینوں سے ہر طرح کی کدورت نکال لی ہے اور وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے. نہ انہیں کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے. میرے بندوں کو خبر کردو کہ میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں. اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے.
۵۔آئیے اس دنیا میں تعمیر جنت کریں : مندر جہ بالاآیات میں جنت کی جن مادی اور معنوی صفات کی تصویر کشی کی گئی ہے اس جہان کی نعمتوں کے اہم اصول بھی یہی ہیں گویا قرآن ہمیں یہ نکتہ سمجھا نا چاہتا ہے کہ دنیاوی زندگی میں یہ نعمتیں فراہم کرکے تم بھی اس عظیم جنت کی ایک چھوٹی سی نظیر قائم کرسکتے ہو ۔
۔اگر سینوں کو کینوں اور عداوتوں سے پاک کرلو ۔
۔اگر اخوت برادری کے اصول کو تقویت دو ۔
۔ اگر غیر ضروری تکلفات و تشرفات کو اپنی زندگی سے خصوصاً اجتماعی زندگی سے دور کرلو ۔
۔اگر امن و سلامتی اپنے معاشرے کو لوٹا دو ۔
۔اگر تمام لوگوں کو یہ اطمینا ن دلایا جائے کہ کوئی شخص ان کی عزت و آبرو ، مقام و حیثیت اور جائز مفادات سے مزاحم نہیں ہو گا اور انھیں اپنی نعمات کے بقاء کا اطمینان ہوتو یہ دن ایسا دن ہوگا جب جنت کی نظیر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوگی ۔