۴۔جزائے کامل
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۴۵ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ ۴۶وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ۴۷لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ۴۸نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۴۹وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ ۵۰
بیشک صاحبان ه تقوٰی باغات اور چشموں کے درمیان رہیں گے. انہیں حکم ہوگا کہ تم ان باغات میں سلامتی اور حفاظت کے ساتھ داخل ہو جاؤ. اور ہم نے ان کے سینوں سے ہر طرح کی کدورت نکال لی ہے اور وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے. نہ انہیں کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے. میرے بندوں کو خبر کردو کہ میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں. اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے.
۴۔جزائے کامل:بعض مفسرین کے بقول جزاتب مکمل ہوتی ہے جب اس میں یہ چار شر طیں موجود ہوں :
۱۔ فائدہ دیکھائی دینے والا ہو ۔ ۲۔ احترام کے ساتھ ہو ۔ ۳۔ ہر قسم کی پریشانی سے خالی ہو ۔ ۴۔ دائمی ہو ۔
مندرجہ بالا آیات میں نعمات بہشت کے لئے ان چار پہلووٴں کی طرف اشارہ ہواہے۔
”ان المتقین فی جنات و عیون “ پہلی قسم کے لئے ہے ۔
”ادخلوھا بسلام اٰمنین “ احترام و تعظیم کی دلیل ہے ۔
”و نزعنا ما فی صدور ھم من غل اخواناًعلی سرر متقابلین“
ہرقسم کی پریشانی ،ناراضی اور روحانی تکلیف کی نفی کی طرف اشارہ ہے ۔
”لایمسھم فیھا نصب“ جسمانی نقصان اور ضرر کی نفی کے متعلق ہے ۔
”وماھم منھا بمخرجین “ آخرین شرط پوری کرتا ہے یعنی ان نعمتوں کے لئے مدام ہے لہٰذا یہ جزا ہر لحاظ سے مکمل ہو گی ۔ 1
۱۔ تفسیر کبیر ، فخرالدین رازی جلد ۱۹ صفحہ ۱۹۳۔