Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ کینہ اور حسد اخوت کے دشمن ہیں

										
																									
								

Ayat No : 45-50

: الحجر

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۴۵ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ ۴۶وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ۴۷لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ۴۸نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۴۹وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ ۵۰

Translation

بیشک صاحبان ه تقوٰی باغات اور چشموں کے درمیان رہیں گے. انہیں حکم ہوگا کہ تم ان باغات میں سلامتی اور حفاظت کے ساتھ داخل ہو جاؤ. اور ہم نے ان کے سینوں سے ہر طرح کی کدورت نکال لی ہے اور وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے. نہ انہیں کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے. میرے بندوں کو خبر کردو کہ میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں. اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے.

Tafseer

									۳۔ کینہ اور حسد اخوت کے دشمن ہیں :یہ امر لائق توجہ ہے کہ امن و سلامتی کے ذکر کے بعد زیر نظر آیات میں نعمت اخوت کے ذکر سے پہلے تمام مزاحم صفات مثلاًکینہ ، حسد، ،غرور او ر خیانت کی ریشہ کسی کا ذکر ہوا ہے لفظ” غل “ جو وسیع مفہوم رکھتاہے اس کے ذریعے ان سب کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔
درحقیقت اگر انسان کا دل اس ”غل“ سے پاک نہ ہو امن و سلامتی کی نعمت بھی حاصل نہ ہوگی اور نہ ہی اخوت برادرری کی نعمت بلکہ ہمیشہ جنگ و جدال اور کشمکش جاری رہے گی اور رشتہ اخوت منقطع ہو گا اور امن و سلامتی چھن جائے گی ۔