۲۔ مادی اور روحانی نعمتیں
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۴۵ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ ۴۶وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ۴۷لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ۴۸نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۴۹وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ ۵۰
بیشک صاحبان ه تقوٰی باغات اور چشموں کے درمیان رہیں گے. انہیں حکم ہوگا کہ تم ان باغات میں سلامتی اور حفاظت کے ساتھ داخل ہو جاؤ. اور ہم نے ان کے سینوں سے ہر طرح کی کدورت نکال لی ہے اور وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے. نہ انہیں کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے. میرے بندوں کو خبر کردو کہ میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں. اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے.
۲۔ مادی اور روحانی نعمتیں : برخلاف اس کے کے بعض لوگ خیال کر تے ہیں قرآن نے ہر جگہ لوگوں کو مادی نعمتوں کی طرف بشارت نہیں دی بلکہ بار گفتگو میں روحانی نعمتوں کا ذکر بھی آیاہے مندرجہ بالا آیات اس کا واضح نمونہ ہیں اس طرح سے فرشتے اہل بہشت کو اس عظیم مرکز نعمت میں خوش آمدیدکہتے ہوئے جو پہلی بشارت دیں گے وہ سلامتی اور امن کی بشارت ہے ۔
کینوں کا سینوں سے دھل جانا اور بری صفات مثلاً حسد، خیانت وغیرہ کہ جو روح اخوت کو ختم کر دیتی ہیں کا خاتمہ اور اسی طرح غلط قسم کی تکلفاتی امتیازات کہ جو فکر و روح کا سکون بر باد کردیتے ہیں کا خذف ہو جانا یہ سب ان کی معنوی و روحانی نعمتوں میں سے ہے کہ جن کی طرف مندر جہ بالا آیات میں اشارہ ہوا ہے ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ امن و سلامتی کہ جس کا ذکر نعمات بہشت کے آغاز میں ہوا ہے ہر دوسری نعمت کی بنیاد ہے کیونکہ ان دوکے بغیر کوئی نعمت قابل استفادہ نہیں ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی تمام نعمتوں کا نقطہٴ آغاز امن و سلامتی کی نعمت ہے ۔