Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ بہشت کے باغ اور چشمے

										
																									
								

Ayat No : 45-50

: الحجر

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۴۵ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ ۴۶وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ۴۷لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ۴۸نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۴۹وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ ۵۰

Translation

بیشک صاحبان ه تقوٰی باغات اور چشموں کے درمیان رہیں گے. انہیں حکم ہوگا کہ تم ان باغات میں سلامتی اور حفاظت کے ساتھ داخل ہو جاؤ. اور ہم نے ان کے سینوں سے ہر طرح کی کدورت نکال لی ہے اور وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے. نہ انہیں کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے. میرے بندوں کو خبر کردو کہ میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں. اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے.

Tafseer

									۱۔ بہشت کے باغ اور چشمے:ہمارے لئے کہ جو اس محدود دنیا میں ہیں نعمات ِ بہشت کو سمجھنا بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے ۔ کیونکہ اس جہاں کی نعمتیں ان نعمتوں کے مقابلے میں ایسے ہی ہیں جیسے تقریباً صفر کے مقابلے میں ایک بہت بڑا عدد۔ لیکن یہ امر اس مین رکاوٹ نہیں کہ اپنی فکر اور روح کے ذریعے انھیں محسوس کریں یہ بات مسلم ہے کہ بہشت کی نعمتیںبہت ہی متنوع ہیں ، لفظ ”جنات“ (باغات)جو مندر بالا اور دیگر بہت سے آیات میں آیا ہے ۔ اسی طرح لفطظ ” عیون “( چشمے) اس حقیقت کے گواہ ہیں ۔ 
البتہ قرآن میں ( سورہ دہر، الرحمن ، دخان اور محمد وغیرہ میں ) ان چشموں کی مختلف انواع کی طرف اشارہ ہوا ہے اور مختلف اشارات کے ذریعے ان کی تنوع کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جو شاید اس جہاں کے طرح طرح کی نیک کاموں کے مجسم ہونے کی طرف اشارہ ہو ۔ انشاء اللہ ان سورتوں کی تفسیر میں ہم ان کا تفصیلی ذکر کریں گے۔