Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔”نسلکہ“ کی ضمیر کامرجع

										
																									
								

Ayat No : 10-15

: الحجر

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ ۱۰وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۱۱كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ۱۲لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ ۱۳وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ ۱۴لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ ۱۵

Translation

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف قوموں میں رسول بھیجے ہیں. اور جب ان کے پاس رسول آتے ہیں تو یہ صرف ان کا مذاق اڑاتے ہیں. اور ہم اسی طرح اس گمراہی کو مجرمین کے دل میں ڈال دیتے ہیں. یہ کبھی ایمان نہ لائیں گے کہ ان سے پہلے والوں کا طریقہ بھی ایسا ہی رہ چکا ہے. ہم اگر آسمان میں ان کے لئے کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ لوگ دن دھاڑے اسی دروازے سے چڑھ جائیں. تو بھی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں کو مدہوش کردیا گیا ہے اور ہم پر جادو کردیا گیا ہے.

Tafseer

									۲۔”نسلکہ“ کی ضمیر کامرجع: ۔ یہ لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجرموں اور مخالفوں کو اپنی آیات اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ گویا ان کے دلوں میں داخل ہو گئی ہوں ۔
لیکن افوس کی بات ہے کہ عدم قابلیت اورعدم آمادگی کے سبب با ہر نکل آتی ہیں جیسے مقوی او رمفید غذا خراب اور غیر صحیح معدہ میں جذب نہیں ہوتی ۔بالک یہی حقیقت ”نسلکہ “ کہ جس کا مادہ ٴ اصلی ”سلوک “ سے ہے سمجھی جاسکتی ہے ۔ 
لہٰذا” نسلکہ “ کی ضمیر ” ذکر “ ( قرآن) کی طرف لوٹتی ہے کہ جو گذشتہ آیات میں آیا ہے کہ اس طرح بعد والے جملے ” لایومنون بہ “ میں ” بہ “ کی ضمیر اس کی معنی کی طرف لوٹتی ہے یعنی ان تمام چیزوں کے باوجود وہ لوگ ان آیات پر ایمان نہیں لائیں گے اس بناء پر دو ضمیروں کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی موجود ہے ۔
اسی معنی میں اس تعبیر کی نظیر سورہ ٴ شعراء کی آیہ ۲۰۰ اور ۲۰۱ میں نظر آتی ہے ۔ 
بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ ” نسلکہ “ کی ضمیر استہزاء کی طرف لوٹتی ہے کہ جو گذشتہ آیت سے مستفاد ہو تا ہے لہٰذا جملے کا معنی یہ ہوگا : ہم نے اس استہزاء کرنے کو( ان کے گناہوں اور ہٹ دھرموں کی وجہسے ) ان کے دل میں داخل کردیا ہے ۔ 
لیکن یہ تفسیر کوئی اور اشکال نہ بھی رکھتی ہو تاہم دوضمیروں کے درمیان سے ہم آہنگی خم کردیتی ہے اور اس کی کمزوری کے لئے یہی کافی ہے ( غور کیجئے گا) ۔
ضمنی طور پر مندرجہ بالا جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مبلغین کا فریضہ صرف یہ نہیں کہ مسائل لوگوں کے کانوں کو سنا دیں بلکہ انھیں تمام وسائل سے استفادہ کرنا چاہئیے تاکہ حق بات ان کے دل میں اتاردیں اس طرح سے کہ وہ دلنشیں ہو جائے یوں حق طلب لوگوں کو ارشاد و ہدایت ہو جائے گی اور ہٹ دھرم افراد پر اتمام حجت ہو جائے گی ۔
یعنی  تمام سمعی و بصری اور عملی ذرائع سے استفادہ کرناچاہئیے ۔ واقعات اور داستانوں سے کام لینا چاہئیے ۔ 
شعر و ادب و ہنر و فن سے حقیقی اور اصلاحی معنی میں استفادہ کرنا چاہئیے ۔ تاکہ کلمات حق لوگوں کے دلوں میں جا گزیں ہو جائیں ۔