Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ ”شیع کا مفہوم “

										
																									
								

Ayat No : 10-15

: الحجر

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ ۱۰وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۱۱كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ۱۲لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ ۱۳وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ ۱۴لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ ۱۵

Translation

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف قوموں میں رسول بھیجے ہیں. اور جب ان کے پاس رسول آتے ہیں تو یہ صرف ان کا مذاق اڑاتے ہیں. اور ہم اسی طرح اس گمراہی کو مجرمین کے دل میں ڈال دیتے ہیں. یہ کبھی ایمان نہ لائیں گے کہ ان سے پہلے والوں کا طریقہ بھی ایسا ہی رہ چکا ہے. ہم اگر آسمان میں ان کے لئے کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ لوگ دن دھاڑے اسی دروازے سے چڑھ جائیں. تو بھی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں کو مدہوش کردیا گیا ہے اور ہم پر جادو کردیا گیا ہے.

Tafseer

									۱۔ ”شیع کا مفہوم “: ” شیع“” شیعہ “کی جمع ہے ۔ ” شیعہ“ ایسی جمیعت اور گروہ کو کہا جاتا ہے جس کے افراد خطِ ،مشترک کے حامل ہوں مفردات مین راغب نے کہا ہے : 
”شیع “ ”شیاع“ کے مادہ سے پھیلاوٴ اور تقویت کے معنی میں ہے ” شاع الخبر“ اس وقت کہا جاتا ہے جب خبر متعدد اور قوی ہو جائے ” شاع القوم “ اس وقت کہا جاتا ہے جب جمیعت پھیل جائے اور زیادہ تعداد میں ہو اور ” شیعہ “ ان لوگوں کو کہتے ہیں کہ انسان جن کی وجہ سے قوی ہو ۔ 
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں اس کی اصل ” مشایعت “ بمعنی متابعت سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیعہ پیرو کار اور تابع کے معنی میں ہے اور شیعہ علی(علیہ السلام) انھیں کہا جاتا ہے جو حضرت علی (علیہ السلام) انھیں کہا جا تا ہے جو حضرت علی (علیہ السلام) کے پیرو کار ہوں اور ان کی امامت کا اعتقاد رکھتے ہوں ۔ پیغمبر اکرم کی یہ مشہور حدیث حضرت امام سلمہ سے مروی ہے ۔ 
شیعة علی ھم الفائزون یوم القیامة
( قیامت کے دن نجات پانے والے علی (علیہ السلام) کے پیرو ہیں )
یہ حدیث بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ 
بہر حال اس لفظ کی اصل ”شیاع“ بمعی پھیلاوٴ اور تقویت سمجھیں یامشایعت بمعنی متابعت جانیں  شیعہ اور تشیع کے مفہوم میں ایک طرح کی فکری و مکتبی ہم بستگی موجود ہونے کی دلیل ہے کہ وہ انبیاء کے خلاف پر اگندہ صورت میں عمل نہیں کرتے تھے بلکہ وہ خط مشترک اور ایک ہی پروگرام کے حامل تھے کہ جو ہم آہنگ اقدامات سے تقویت پاتا ہے ۔ 
اگر گمرا ہ لوگ اس طرح باہم مل کر اقدامات کرتے ہوئے تو کیا راہ ِ حق کے سچے پیرو کاروں کو اپنے راستے میں ہم آہنگی اور مشرکہ منصوبہ بندی اختیار نہیں کرنا چاہئیے ۔