۳۔گذشتہ لوگوں کی روش
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ ۱۰وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۱۱كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ۱۲لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ ۱۳وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ ۱۴لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ ۱۵
اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف قوموں میں رسول بھیجے ہیں. اور جب ان کے پاس رسول آتے ہیں تو یہ صرف ان کا مذاق اڑاتے ہیں. اور ہم اسی طرح اس گمراہی کو مجرمین کے دل میں ڈال دیتے ہیں. یہ کبھی ایمان نہ لائیں گے کہ ان سے پہلے والوں کا طریقہ بھی ایسا ہی رہ چکا ہے. ہم اگر آسمان میں ان کے لئے کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ لوگ دن دھاڑے اسی دروازے سے چڑھ جائیں. تو بھی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں کو مدہوش کردیا گیا ہے اور ہم پر جادو کردیا گیا ہے.
۳۔گذشتہ لوگوں کی روش : انبیاء پر طرف دار باطل کی نکتہ چینی اور مردانِ خد اسے لوگوں کو دور کرنے کی سازشیںکوئی نئی چیز نہیں اور کسی خاص زمانے یا علاقے میں منحصر نہیں بلکہ جیسا کہ مذکورہ بالا تعبیر سے معلوم ہوتا ہے قدیم زمانے سے گمراہ قوموں میں ایسی سازشیں موجود ہیں ۔
لہٰذا ان سے ہر گز وحشت زدہ نہیں ہونا چاہئیے اور اپنے اندر مایوسی اور ناامیدی کو جگہ نہیں دینا چاہئیے ۔ یا دشمنوں کی طرف سے پیدا کردہ کثیر مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہئیے ۔
یہ بات تمام راہیان حق کے لئے ایک موثر دلجوئی اور تسلی ہے ۔
اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی دور اور کسی علاقہ میں ہم دعوت ِحق نشر کریں اور پر چم عدم لہرائیں لیکن ہٹ دھرم اور سخت مخالفت کرنے والے دشمن کی طرف سے ہمیں رد عمل کا سامنا نہ کرنا پڑے تو ہم بہت ہی زیادہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔ انبیاء الہٰی اور ان کے سچے پیر و کار ان مخالفتوں کی وجہ سے کبھی مایوس نہیں ہوئے بلکہ ان کے لئے ضروری ہوتا تھا کہ ہر روز اپنی دعوت کی گہرائی اور گیرائی میں اضافہ کریں ۔