Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ ابراہیم (علیه السلام) بت پرستی سے دوری کی دعا کیوں کرتے ہیں ؟

										
																									
								

Ayat No : 35-41

: ابراهيم

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۳۵رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ ۖ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۳۶رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ۳۷رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۳۸الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ۳۹رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۴۰رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ۴۱

Translation

اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے کہا کہ پروردگار اس شہر کو محفوظ بنادے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھنا. پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو اب جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو معصیت کرے گا اس کے لئے توِ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے. پروردگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں. پروردگار ہم جس بات کا اعلان کرتے ہیں یا جس کو چھپاتے ہیں تو سب سے باخبر ہے اور اللہ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی. شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی ہے کہ بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے. پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے. پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا.

Tafseer

									۳۔ ابراہیم (علیه السلام) بت پرستی سے دوری کی دعا کیوں کرتے ہیں ؟ اس میں شک نہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) معصوم نبی تھے اور ان کے بلاواسطہ بیٹے جو آیت کے لفظ ” بنی “ کے یقینی مصداق ہیں یعنی اسماعیل (علیه السلام) اور اسحاق (علیه السلام)بھی معصوم پیغمبر تھے اس کے باوجود وہ تقاضا کرتے ہیں : خدا یا مجھے اور انھیں بتوں کی پوجا سے دور رکھ ! 
یہ بات بت پرستی کے خلاف جہاد کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تاکید کے لئے دلیل ہے ۔ یہاں تک کہ معصوم نبی اور بت شکن بھی اس سلسلہ میں خدا سے دعا کرتے ہیں ۔ یہ بعینہ پیغمبر اسلام کی طرف سے اپنی وصیتوں میں حضرت علی (علیه السلام) یا دوسرے آئمہ کو جو ان کے جانشین تھے انہیں نماز کی تاکید کرنے کے مشابہ ہے جبکہ ان کے بارے میں ترک نماز کا احتمال کا ہر گز کوئی مفہوم نہیں بلکہ اصولی طور پر نماز ان کی سعی و کوشش سے برپا ہوئی ہے ۔ 
تو اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے کس طرح سے کہا کہ پروردگارا ! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے حالانکہ وہ پتھر اور لکڑی کے سوا کچھ نہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ۔ 
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ : 
اولاً  بت ہمیشہ پتھر اور لکڑی کے نہیں ہوتے تھے بلکہ کبھی فرعون اور نمرود جیسے افراد لوگوں کو اپنی پرستش کی دعوت دیتے تھے اور اپنے آپ کو ” رب اعلیٰ “ ” زندہ کرنے والا “ اور ” مارنے والا “ کی حیثیت سے متعارف کرواتے تھے ۔ 
ثانیاً  بعض اوقات پتھر اور لکڑی کے بتوں کو ان کے متولی اور کارندے اس طرح سے آراستہ و پیراستہ کرتے اور ان کے لئے ایسے احترامات بجا لاتے کہ وہ واقعاً سادہ لوح عوام کے لئے گمراہ کن ہو جاتے تھے ۔