۲۔ مکہ سر زمین امن
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۳۵رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ ۖ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۳۶رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ۳۷رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۳۸الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ۳۹رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۴۰رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ۴۱
اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے کہا کہ پروردگار اس شہر کو محفوظ بنادے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھنا. پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو اب جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو معصیت کرے گا اس کے لئے توِ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے. پروردگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں. پروردگار ہم جس بات کا اعلان کرتے ہیں یا جس کو چھپاتے ہیں تو سب سے باخبر ہے اور اللہ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی. شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی ہے کہ بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے. پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے. پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا.
۲۔ مکہ سر زمین امن : یہ بات جاذب نظر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سر زمین میں جو سب سے پہلی دعا کی وہ ( امن ) کے لئے تھی ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ امن کی نعمت انسانی زندگی کے لئے ، کسی جگہ قیام کرنے کے لئے اور ہر قسم کی تعمیر ِ آبادی اور ترقی کے لئے پہلی شرط ہے اور ہے بھی ایسا ہی ۔ اگر کسی جگہ امن و امان نہ ہو تو وہ رہنے کے قابل نہیں اگر چہ دنیا کی تمام نعمتیں وہاں موجود ہوں ۔ اصولی طور پر وہ شہر ، آبادی اور ملک کہ جو امن کی نعمت سے محروم ہو گویا وہ تمام نعمتیں کھو بیٹھا ہے ۔
یہاں اس نکتہ کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے امن کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی دعا کو دو طرح سے قبول کیا ہے ۔ اسے امنیت تکوینی بھی دی کیونکہ یہ ایسا شہر ہو گیا کہ جس نے پوری تاریخ میں امن کے لئے تباہ کن حوادث بہت کم دیکھے ہیں اور اسے امنیت تکوینی بھی دی ۔ یعنی خڈا نے حکم دیا ہے کہ تمام انسان بلکہ جانور تک اس زمین میں امن و امان میں رہیں ۔ یہاں کے جانوروں کا شکار کرنا ممنوع ہے ۔ 2
۱ ۔ جب حضرت اسما عیل (علیه السلام) اور حضرت اسحاق (علیه السلام) پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی عمر کیا تھی ۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے بعض نے کہا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) ۹۹ سال کے تھے کہ پہلے فرزند اسماعیل (علیه السلام) پیدا ہوئے اور ۱۱۲ سال کے تھے جب اسحاق (علیه السلام) نے آنکھ کھولی ۔ بعض نے اس سے کم اور بعض نے زیادہ عمر لکھی ہے تا ہم یہ مسلم ہے کہ اس وقت آپ کی عمر اتنی تھی کہ معمولاً اس عمر میں بچے کی پیدائش بہت بعید معلوم ہوتی تھی ۔
2- اس وقت جبکہ ہم تفسیر کے اس حصہ کو مرتب کر رہے ہیں امت اسلامی پر ایک نہایت اندوہناک سانحہ گزرا ہے ۔ سر زمین حرم پر اطراف خانہ خدا میں سعودی پولیس نے وحشت و درندگی کی انتہا کر دی ۔ اس نے ایرانی حاجیوں پر گولی چلائی ۔ سیکڑوں عورتیں بچے بوڑھے شہید ہو گئے ۔ ایک انتہائی منظم پر امن اور با وقار جلوس پر یہ ظلم صرف اس ” جرم “ پو ہوا کہ وہ عالمی طاغوتی طاقتوں امریکہ ، روس اور اسرائیل کے خلاف اظہار نفرت کر رہے تھے ۔یہ واقعہ ان دنوں میں ہوا جب خلیج فارس میں امریکہ نے کھلم کھلا فوجی مداخلت شروع کردی ہے تاکہ ایران کے اسلامی انقلاب سے اپنی رسوائی سے بدلا لے سکے ۔ ایسے میں جبکہ مسلمانوں کی گردنوں پر مسلط استعماری ایجنٹوں ، فوجی آمروں اور بادشاہوں نے ایران کی اسلامی حکومت کے خلاف ایکا کر لیا ہے اور سب امریکہ سے تعاون پر کمر بستہ ہیں ۔ سودیوں نے نہ فقط سر زمین کعبہ کو اسلام کے صریح احکام کے خلاف زائرین حرم کے خون سے لالہ زار بنایا بلکہ ایسا پوری دنیا میں ان مظلوموں کے خلاف پراپیکنڈہ کیا ۔ صہیونیت اور استعماری قوتوں کے تمام نشریات ادارے ان مظلوموں کے خلاف استعمال ہوئے ۔ قاتلوں کو امن کا محافظ اور مشرکین اور دشمنان اسلام کے خلاف فریاد کرنے والوں کو امن کا دشمن قرار دیا گیا ۔
سعودی ایسا کیوں نہ کرتے کیوں کہ یہ اسی یزید اور حجاج کے افکار کے وارث ہیں جنہوں نے خانہ خدا کی حرمت پامال کی تھی ( ثاقب ) ( اگست ۱۹۸۷ء) ۔
یہاں تک کہ جو مجرم اس حرم اور خانہ خدا میں پناہ لیں ان کا تعاقب بھی جائز نہیں ۔ ایسے مجرمین کا صرف پانی بند کیا جا سکتا ہے تا کہ وہ باہر نکل آئیں اور سر تسلیم خم کردیں ۔