۴۔ ابراہیم (علیه السلام) کے تابع کون ہیں ؟
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۳۵رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ ۖ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۳۶رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ۳۷رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۳۸الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ۳۹رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۴۰رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ۴۱
اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے کہا کہ پروردگار اس شہر کو محفوظ بنادے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھنا. پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو اب جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو معصیت کرے گا اس کے لئے توِ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے. پروردگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں. پروردگار ہم جس بات کا اعلان کرتے ہیں یا جس کو چھپاتے ہیں تو سب سے باخبر ہے اور اللہ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی. شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی ہے کہ بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے. پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے. پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا.
۴۔ ابراہیم (علیه السلام) کے تابع کون ہیں ؟ زیر بحث آیات میں ہے کہ ابراہیم کہتے ہیں :خدا وندا ! وہ لوگ جو میری پیروی اور اتباع کرتے ہیں ۔
یہاں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیرو کار صرف وہ لوگ تھے جو ان کے زمانے میں تھے یا ان کے بعد ان کے دین پر تھے یا ساری دنیا کے توحید پرست اور خدا پرست اس میں شامل ہیں کیونکہ ابراہیم (علیه السلام) توحیداور بت شکنی کی علامت اور نمونہ ہیں ۔
قرآنی آیات میں ملت اسلامیہ اور دین اسلام کو ملت و دین ابراہیمی کی حیثیت سے متعارف کروایا گیا ہے ۔ 1
اس سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کی دعاء تمام توحید پرستوں اورراہ توحید میں جد و جہد کرنے والوں کے لئے ہےں ۔
آئمہ اھلبیت (علیه السلام) سے مروی روایات میں بھی اس تفسیر کی تاکید کی گئی ہے ۔ ان میں سے ایک روایت امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے ۔ آپ (علیه السلام) فرماتے ہیں :
من احبنا فھو منا اھل البیت قلت : جعلت فداک منکم قال : منا واللہ اما سمعت قول ابراہیم ! ” من تبعنی فانہ منی “
جو شخص ہم سے محبت رکھے ( اور اہل بیت کی سیرت پر چلے ) وہ ہم میں سے ہے ۔
راوی نے پوچھا : میں آپ پر قربان ، واقعاً آپ میں سے ہے ؟
فرمایا : واللہ ہم میں سے ہے ۔ کیا تم نے ابراہیم کی گفتگو نہیں سنی جو کہتے ہیں من تبعنی انہ منی ( جو شخص میری اتباع کرے وہ مجھ سے ہے ) 2
یہ حدیث نشاندہی کرتی ہے کہ کسی مکتب کی پیروی اور اس کے پروگرام میں سے تعلق کسی خاندان سے روحانی طور پر تعلق ہونے کے مترادف ہے ۔
ایک اور حدیث میں امام امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
نحن اٰل ابراہیم افترغبون عن ملة ابراہیم و قد قال اللہ تعالیٰ فمن تبعنی فانہ منی
ہم آل ابراہیم ہیں ۔ تو کیا ابراہیم کی ملت اوردین سے منہ موڑتے ہو ؟ حالانکہ خدا وند عالم ( ابراہیم کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتا:
جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے ۔
۱ . حج ۔۷۸ ۔
2 ۔ تفسیر نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۴۸۔