۱۔ کیا مکہ اس وقت شہر تھا ؟
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۳۵رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ ۖ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۳۶رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ۳۷رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۳۸الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ۳۹رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۴۰رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ۴۱
اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے کہا کہ پروردگار اس شہر کو محفوظ بنادے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھنا. پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو اب جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو معصیت کرے گا اس کے لئے توِ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے. پروردگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں. پروردگار ہم جس بات کا اعلان کرتے ہیں یا جس کو چھپاتے ہیں تو سب سے باخبر ہے اور اللہ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی. شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسی اولاد عطا کی ہے کہ بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے. پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے. پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا.
۱۔ کیا مکہ اس وقت شہر تھا ؟ زیر نظر آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ ابراھیم (علیه السلام) اچانک عرض کرتے ہیں کہ خدا وندا! میں اپنے بیٹے کو ایک ایسی سر زمین میں چھوڑ رہا ہوں جہاں پانی ہے نہ آبادی اور نہ زراعت۔
یقینا یہ سر زمین مکہ میں ورود کا آغاز ہے کہ جب پانی تھا نہ آبادی ، نہ مکان تھا نہ مکین ۔ صرف خانہ خدا کے باقی ماندہ آثار تھے جو وہاں دکھائی دیتے تھے اور کچھ خشک اور بے آب و گیاہ پہاڑ تھے ۔
لیکن ہم جانتے ہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) نے اس علاقہ کا یہی ایک سفر نہ کیا تھا ۔ اس کے بعد بھی آپ نے اس سر زمین مقدس پر بارہا قدم رکھا جبکہ تدریجاً مکہ شہر کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا ۔ قبیلہ ” جرہم “ وہاں سکونت اختیار کر چکا تھا ۔ چشمہ زمزم پیدا ہونے پر علاقہ رہائش کے قابل ہو چکا تھا ۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی یہ دعائیں ان کے کسی بعد کے سفر سے تعلق رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کہتے ہیں : خدا وندا ! اس شہر کو جاء امن و امان قرار دے ۔
اور یہ جو وادی ” غیر ذی زرع “ کہا ہے تو یہ یا گزشتہ زمانے کی بات کر رہے ہیں اور اپنے پہلے سفر کی یاد تازہ کر رہے ہیں اور یا اس طرف اشارہ ہے کہ سر زمین مکہ ایک شہر بن جانے کے بعد بھی نا قابل زراعت ہے لہذا اس کی ضروریات باہر سے آنا چاہئیں کیونکہ جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ خشک پہاڑوں پر مشتمل ہے جہاں پانی بہت کم ہے ۔