Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۶۔ جو کچھ ہم خدا سے چاہتے ہیں کیا وہ دیتا ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 31-34

: ابراهيم

قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ ۳۱اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ ۳۲وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۳۳وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ ۳۴

Translation

اور آپ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازیں قائم کریں اور ہمارے رزق میں سے خفیہ اور علانیہ ہماری راہ میں انفاق کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی. اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمان سے پانی برسا کر اس کے ذریعہ تمہاری روزی کے لئے پھل پیدا کئے ہیں اور کشتیوں کو مسخر کردیا ہے کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمہارے لئے نہروں کو بھی مسخر کردیا ہے. اور تمہارے لئے حرکت کرنے والے آفتاب و ماہتاب کو بھی مسخر کردیا ہے اور تمہارے لئے رات اور دن کو بھی مسخر کردیا ہے. اور جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا اور اگر تم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے -بیشک انسان بڑا ظالم اور انکار کرنے والا ہے.

Tafseer

									۶۔ جو کچھ ہم خدا سے چاہتے ہیں کیا وہ دیتا ہے ؟ زیر بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ :
خد انے تم پر لطف کیا اور جو کچھ تم نے اس سے طلب کیا اس کا کچھ حصہ تمہیں دیا ۔ 
( توجہ رہے کہ ” من کل ماساٴلتموہ“ میں ”من “ تبعیضیہ ہے ) ۔ 
یہ اس بناء پر ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان خداسے کوئی چیز چاہتا ہے کہ جس میں یقینی طور پر اس کا نقصان بلکہ بعض اوقات ہلاکت پنہاںن ہوتی ہے لیکن وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے لیکن عالم ، حکیم اور رحیم خد اہر گز اس قسم کا تقاضا پورا نہیں کرتا اور ا س کی بجائے شاید بہت سے مواقع پر انسان اپنی زبان سے خدا سے کوئی چیز طلب نہیں کرتا لیکن زبان حال سے اور اپنی فطرت سے اس کی تمنا کرتا ہے اور خدا اسے دے دیتا ہے اور کوئی مانع نہیں کہ ”ما ساٴلتموہ “ میں زبان قال کا تقاضا بھی شامل ہو او ر زبان ِ حال کی آرزو بھی ۔