۷۔ اس کی نعمتیں کیوں قابل ِ شمار نہیں
قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ ۳۱اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ ۳۲وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۳۳وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ ۳۴
اور آپ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازیں قائم کریں اور ہمارے رزق میں سے خفیہ اور علانیہ ہماری راہ میں انفاق کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی. اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمان سے پانی برسا کر اس کے ذریعہ تمہاری روزی کے لئے پھل پیدا کئے ہیں اور کشتیوں کو مسخر کردیا ہے کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمہارے لئے نہروں کو بھی مسخر کردیا ہے. اور تمہارے لئے حرکت کرنے والے آفتاب و ماہتاب کو بھی مسخر کردیا ہے اور تمہارے لئے رات اور دن کو بھی مسخر کردیا ہے. اور جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا اور اگر تم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے -بیشک انسان بڑا ظالم اور انکار کرنے والا ہے.
۷۔ اس کی نعمتیں کیوں قابل ِ شمار نہیں : یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا وجود سرتا پا ا س کی نعمتوں میں مستغرق ہے ۔ اگر مختلف طبیعی علوم ، علم ِ عمرانیات ، علم نفسانیات اور علم نباتات وغیرہ کی کتب کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان نعمتوں کا دامن کسی قدر وسیع ہے ۔ اصولی طور پر ایک عظیم ادیب کے بقول ہر سانس میں دو نعمتیں موجود ہیں اور ہر نعمت پر شکر واجب ہے ۔
اس سے قطع نظر ہم جانتے ہیں کہ ایک انسان کے بدن میں اوسطاً دس ملین ارب زندہ خیلے موجود ہیں ان میں سے ہر ایک ہمارے فعال بدن کاحصہہے ۔ یہ عدد اس قدر بڑا ہے کہ اگر ہم ان خلیوں کو گننا چاہیں تو سینکڑوں سال در کار ہیں اور پھر یہ تو ہم پر خدائی نعمتوں کا صرف ایک حصہ ہے ۔ لہٰذا اگر ہم واقعاً اس کی نعمتوں کو گننا چاہیں تو یہ ہمارے بس کی بات نہیں ( و ان تعدوا نعمت اللہ لاتحصوھا ) ۔
انسان کے خون میں دو قسم کے گلو بل ہیں (Globules)1
ہوتے ہیں ۔ سرخ گلوبل کئی ملین ہیں اور اسی طرح سفید گلوبل بھی ۔ سرخ گلو بل بدن کے خلیوں کی سوخت و ساز کے لئے آکسیجن پہنچاتے ہیں اور سفید گلوبل انسان کی صحت و سلامتی کی حفاظت کرتے ہیں اور جب جراثیم جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں تو یہ اپنا کردار ادار کتتے ہیں ۔ تعجب کی با ت یہ ہے کہ بغیر کسی استراحت اور آرام کے ہمیشہ خدمت ِ انسان کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں ۔
۱۔ چھوٹے چھوٹے زندہ موجودات جوخون میں تیرے ہیں اور زندگی کے بارے میں بھاری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔