Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۵۔ دائبین

										
																									
								

Ayat No : 31-34

: ابراهيم

قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ ۳۱اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ ۳۲وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۳۳وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ ۳۴

Translation

اور آپ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازیں قائم کریں اور ہمارے رزق میں سے خفیہ اور علانیہ ہماری راہ میں انفاق کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی. اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمان سے پانی برسا کر اس کے ذریعہ تمہاری روزی کے لئے پھل پیدا کئے ہیں اور کشتیوں کو مسخر کردیا ہے کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمہارے لئے نہروں کو بھی مسخر کردیا ہے. اور تمہارے لئے حرکت کرنے والے آفتاب و ماہتاب کو بھی مسخر کردیا ہے اور تمہارے لئے رات اور دن کو بھی مسخر کردیا ہے. اور جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا اور اگر تم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے -بیشک انسان بڑا ظالم اور انکار کرنے والا ہے.

Tafseer

									۵۔ دائبین: ہم کہہ چکے ہیں کہ ”دائب“ مادہ ”دؤب“ سے ہے اس کا معنی ہے ایک عادت ی امحکم سنت کے مطابق کا جاری رکھنا ۔ البتہ سورج زمی کے گرد حرکت نہیں کرتابلکہ بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ سورج ہمارے گرد گھومتا ہے لیکن ” دائب“ کے معنی جگہ میں حرکت کرنے کامفہوم نہیں ہے بلکہ کسی کام کو مسلسل جاری رکھنے کا مفہوم اس میں مضمر ہے اور ہم جانتے ہیںکہ سورج اور چاند نور افشانی کرتے ہیں اور نشور نما کا ذریعہ ہیں ۔ کرہٴ زمین اور انسانوں کے لئے ان کا یہ پروگرام مسلسل پوری طرح منظم ہے ( اور اس بات کو فراموش نہ کیجئے گا کہ ” داٴب“ کا ایک معنی عادت بھی ہے ) ۔ 1

 

۱۔البتہ موجودہ زمانے کے ہارین سورج کی دوسری قسم کی گردش کے قائل ہیں ۔ مثلاً وہ اپنے مدار کے گرد گھومتا ہے اور جس نظام ِ شمسی سے اس کا تعلق ہے اس کے ساتھ اس کہکشاں کے اندر حرکت کرتا ہے جس میں وہ موجود ہے ۔