Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ خالق اور مخلوق سے رشتہ

										
																									
								

Ayat No : 31-34

: ابراهيم

قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ ۳۱اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ ۳۲وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۳۳وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ ۳۴

Translation

اور آپ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازیں قائم کریں اور ہمارے رزق میں سے خفیہ اور علانیہ ہماری راہ میں انفاق کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی. اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمان سے پانی برسا کر اس کے ذریعہ تمہاری روزی کے لئے پھل پیدا کئے ہیں اور کشتیوں کو مسخر کردیا ہے کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمہارے لئے نہروں کو بھی مسخر کردیا ہے. اور تمہارے لئے حرکت کرنے والے آفتاب و ماہتاب کو بھی مسخر کردیا ہے اور تمہارے لئے رات اور دن کو بھی مسخر کردیا ہے. اور جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا اور اگر تم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے -بیشک انسان بڑا ظالم اور انکار کرنے والا ہے.

Tafseer

									۱۔ خالق اور مخلوق سے رشتہ : ان آیات میں ایک مرتبہ پھر سچے مومنین کے لائحہ عمل میں سے ” نماز “ اور انفاق “ کا ذکر کیا گیا ہے ۔ 
ہوسکتا ہے کہ بتدائی نظر سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے تمام عملی پروگراموں میں سے یہاں صرف دو کاتذکرہ کیوں کیا گیا ہے ۔
اس کی علت یہ ہے کہ اسلام کی مختلف جہتیں ہیں ۔ ان کا خلاصہ تین میں پیش کیا جا سکتا ہے :
۱) انسان کا خدا سے رابطہ ۔ 
۲) انسان کا مخلوق سے رابطہ ۔ 
۳) انسان کا اپنی ذات سے رابطہ۔ 
درحقیقت تیسرا حصہ پہلے حصے اور دوسرے حصے کا نتیجہ ہے ۔ مذکورہ دو پروگرام ( نماز اور انفاق ) در اصل انہی دو حصوں میں سے ایک ایک کی طرف اشارہ ہےں ۔ 
نماز اللہ سے ہر قسم کے رابطے کا مظہر ہے کیونکہ نماز کے دوران یہ رابطہ دوسرے عمل کی نسبت زیادہ واضح ہوتا ہے ۔ جب کہ انفاق مخلوق ِ خدا سے رشتے کی طرف اشارہ ہے اور ا س کے لئے ضروری ہے کہ ہر نعمت ِ رزق میں سے انفاق کا وسیع مفہوم پیش ِ نظر رکھا جائے جس میں ہر طرح کی مادی و روحانی نعمت شامل ہے ۔ 
البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جس سورہ کی بحث جاری ہے وہ مکی ہے اور ا س کے نزول کے وقت ابھی زکوٰة کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اس انفاق کو زکوٰة سے مر بوط نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ یہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جس میں نزول ِ حکم کے بعد زکوٰة بھی شامل ہے ۔