Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔انفاق، پنہان اور آشکار کیوں ؟

										
																									
								

Ayat No : 31-34

: ابراهيم

قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ ۳۱اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ ۳۲وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۳۳وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ ۳۴

Translation

اور آپ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازیں قائم کریں اور ہمارے رزق میں سے خفیہ اور علانیہ ہماری راہ میں انفاق کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی. اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمان سے پانی برسا کر اس کے ذریعہ تمہاری روزی کے لئے پھل پیدا کئے ہیں اور کشتیوں کو مسخر کردیا ہے کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمہارے لئے نہروں کو بھی مسخر کردیا ہے. اور تمہارے لئے حرکت کرنے والے آفتاب و ماہتاب کو بھی مسخر کردیا ہے اور تمہارے لئے رات اور دن کو بھی مسخر کردیا ہے. اور جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا اور اگر تم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے -بیشک انسان بڑا ظالم اور انکار کرنے والا ہے.

Tafseer

									۲۔ انفاق پنہان اور آشکار کیوں ؟ ہم بار ہا قرآنی آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ سچے مومنین پنہاںبھی انفاق اور صدقہ کرتے ہیںاور آشکا ربھی ۔ اس طرح سے انفاق کا وسیع معنی بیان کرنے کے سا تھ ساتھ اس کی کیفیت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ بعض اوقات مخفی انفاق زیادہ موٴثر اور زیادہ آبرومند دانہ ہوتا ہے او ربعض اوقات آشکار ہو تو دوسروں کی تشویق کا باعث بنتا ہے ، اسلامی طرز ِ عمل کے لئے نمونہ مہیا کرتا ہے اور شعائر دین کی تعظیم و تکریم شمار ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں کبھی ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ جسے کچھ دیا جارہا ہو وہ لینے سے ناراحت ہوتا ہے ۔ 
اس وقت جب کہ ہم خونخوار دشمن سے جنگ میں مصروف ہیں ( یا کسی مسلمان قوم کو ایسی حالت کا سامنا ہو )تو اہل ایمان ہر روز جنگ زدگان یا مجروحین یاخود جنگجو یان کی امداد کے لئے مختلف قسم کا بہت زیادہ وہ سامان لے کر سر حدوں اور جنگی علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور ان کی خبریں ذرائع ابلاغ سے نشر ہوتی ہیں ایک تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری ملت جنگ کرنے والوں کی پشت پر ہے اور دوسرا ان لوگون کے لئے باعثِ تشویق ہوتا ہے جو اس قافلے سے پیچھے رہ گئے ہیں تاکہ جتنا جلدی ہو سکے وہ قافلے سے آملیں۔ واضح ہے کہ ایسے مواقع پر اعلانیہ انفاق زیادہ موٴثر ہے ۔ 
ان دونوں میں فرق کے سلسلے میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اعلانیہ انفاق واجبات کے ساتھ مربوط ہے کہ جس عام طور پر تظاہر کا پہلو نہیں ہوتا کیونکہ ذمہ داری کی ادائیگی سب پر لازم ہے اور ا س میں کوئی پنہاں معاملہ نہیں لیکن مستحب انفاق چونکہ واجب سے زائد چیز ہے لہٰذا ہو سکتا ہے اس میں تظاہر یا ریا کا معاملہ بہتر ہے کہ اسے مخفی طور پر انجام دیا جائے ۔
ایسا نظر آتا ہے کہ یہ تفسیر کلی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ در حقیقت پہلی تفسیر کی ایک شاخ ہے ۔