Tafseer e Namoona

Topic

											

									  قرآن کی نگاہ میں انسان کی عظمت

										
																									
								

Ayat No : 31-34

: ابراهيم

قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ ۳۱اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ ۳۲وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۳۳وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ ۳۴

Translation

اور آپ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازیں قائم کریں اور ہمارے رزق میں سے خفیہ اور علانیہ ہماری راہ میں انفاق کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی. اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمان سے پانی برسا کر اس کے ذریعہ تمہاری روزی کے لئے پھل پیدا کئے ہیں اور کشتیوں کو مسخر کردیا ہے کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمہارے لئے نہروں کو بھی مسخر کردیا ہے. اور تمہارے لئے حرکت کرنے والے آفتاب و ماہتاب کو بھی مسخر کردیا ہے اور تمہارے لئے رات اور دن کو بھی مسخر کردیا ہے. اور جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا اور اگر تم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے -بیشک انسان بڑا ظالم اور انکار کرنے والا ہے.

Tafseer

									قرآن کی نگاہ میں انسان کی عظمت
گزشتہ آیات میں مشرکین اور ان لوگوں کے طرز عمل کے بارے میں گفتگو تھی کہ جنہوں نے نعماتِ الٰہی کاکفران کیا اور آخر کار دار البوار کی طرف کھینچے گئے ۔ زیر نظر آیات میں خدا کے سچے بندوں کا ذکر ہے اور اللہ کی بندوں پر نازل ہونے والی غیر متناہی نعمات کے بارے میں با ت کی گئی ہے ۔ 
پہلے فرمایا گیا ہے : میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ہیں کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور ہم نے جو رزق دیا ہے اس میں سے پنہاں و آشکار خرچ کریں

 ( قُلْ لِعِبَادِی الَّذِینَ آمَنُوا یُقِیمُوا الصَّلَاةَ وَیُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاھُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَةً ) ۔اس کے پہلے کہ وہ دن آجائے کہ جس میں نہ خرید و فروخت ہے کہ اس طرح عذاب سے نجات کے لئے راہ سعادت خرید سکیں او رنہ وہاں کسی کی دوستی کا م آئے گی (مِنْ قَبْلِ اٴَنْ یَاٴْتِیَ یَوْمٌ لاَبَیْعٌ فِیہِ وَلاَخِلَالٌ) ۔
اس کے بعد معرفت ِ خدا کے لئے اس کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے ایسی معرفت کہ جس سے دلوں میں اس کا عشق زندہ ہو جائے نیز انسان کو اس کی عظمت اور اس کے لطف کے حوالے سے اس تعظیم پر ابھارا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مدد اور لطف و رحمت کرنے والے سے انسان کے دل میں لگاوٴ اور محبت ہید اہوتی ہے ۔ یہی بات چند ایک آیات میں یہاں اس طرح بیان کی گئی ہے :۔
خد اوہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیاہے (اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْض) ۔اور اس نے آسمان سے پانی نازل کیا جس کے ذریعے تمہاری روزی کے لئے مختلف ثمرات پیدا ہوتے ہیں ( وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِہِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ ) ۔
” اور اس نے تمہارے لئے کشتی کو مسخر کیا “ اس کے ساخت کے مواد کے لحاظ سے بھی کہ جسے طبیعت ِ مادہ سے پیدا کیا اور سمندروں پرمنظم ہواوٴں کی صورت میں اس کی وقت ِ محرکہ لحاظ سے بھی (وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ) ۔” تاکہ یہ کشتیاں اس کے حکم سے سطح سمندر پر چلیں “ اور پانی پر سینہ چیر کر ساحلِ مقصود کی طرف بڑھیں اور انسانوں اور ان کے وسائل ایک سے دوسری جگہ کی طرف آسانی سے اٹھالے جائیں ( لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاٴَمْرِہِ ) ۔
اسی طر ح ” نہریں بھی تمہارے لئے مسخر کردی گئیں “(وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاٴَنھَارَ) ۔تاکہ ان کے حیات بخش پانی سے تم اپنی فصلوںکی آبیاری کرو اور تم خود اور تمہارے مویشی اس سے سیراب ہوں ۔ نیز اکثر اوقات کے لئے سطح آب کو ہموارہ رکھا گیا ہے تاکہ چھوٹی بڑی کشتیاں اس میں آمد و رفت کرسکیں ۔ نیز نہریں مسخر کی گئی ہیں تاکہ تم ان کی مچھلیوں بلکہ یہاں تک کہ ان کی گہرائیوں میں موجود اصداف سے استفادہ کرسکو۔ 
نہ صرف زمینی موجودات کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے بلکہ سورج اور چاند کو جو ہمیشہ مصروف ِ کار ہیں انہیں تمہارے فرمان کے زیر گردش قرار دے دیا ہے (وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ ) ۔۱
نہ صرف اس جہان کے موجودات کو تمہارے زیر فرمان کردیا گیا ہے بلکہ ان کے عارضی حالات کو بھی تمہارے لئے مسخر کردیا گیا ہے جیسا کہ ”رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کیا گیا ہے “(سَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ ) ۔
اور تم نے جس چیز کا اس سے تقاضا کیا اور فرد اورمعاشرے کی روح اور بدن کے لئے تمہیں جس چیز کی احتیاج ہوئی یا اپنی سعادت کے لئے تمہیں جس چیز کی ضرورت پڑی وہ سب کچھ اس نے تمہارے اختیار میں دے دیا( وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاٴَلْتُمُوہُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لاَتُحْصُوھَا) ۔
کیونکہ پر وردگارکی مادی اور معنوی نعمتوں نے تمہارے وجود اور محیط ِ زندگی کو اس طرح سے گھیر رکھا ہے ان کا شمار ممکن نہیں اور جن خدائی نعمتوں کو تم جانتے ہو وہ ان کے مقابلے میں جنہیں تم نہیں جاتنے دریا کے مقابلے میں قطرے کی مانند ہیں لیکن خدا کے اس تمام لطف و رحمت کے باجود یہ انسان ظالم ہے اور کفران ِ نعمت کرنے والا ہے ( إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّارٌ) ۔
انسان کو ایسی نعمتیں عطا کی گئیں ہیں کہ اگر وہ ان سے صحیح استفادہ کرتاتو سارے جہاں کو گلستان بنا دیتا اور ” مدینہ فاضلہ “ کی تشکیل کا خواب پورا ہو جاتا لیکن سوئے استفادہ ، ظلم و ستم اورکفران ِ نعمت کے سبب وہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اس کی اس زندگی کاافق تاریک ہو گیا ، شہدِ حیات اس کے دہن میں جاں گداز زہر بن چکا ہے اور طاقت فرسا مشکلات نے طوق و زنجیر مشکلات نے طوق و زنجیر کے اسے جکڑ رکھا ہے ۔

 

۱۔”دائبین “ ” دؤب “کے مادہ سے ایک عادت کے مطابق یا محکم سنت کے مطابق کام جاری رکھنے کے معنی میں ہے ۔ سورج اور چاند چونکہ لاکھوں سال سے ایک معین و مستحکم طریقے سے نور افشانی کرنے ، زندہ موجودات کی پرورش کرنے ، سمندروں میں مدو جز پیدا کرنے اور کئی دوسری خدمات میں مصروف ہیں لہٰذ ان کے لئے ” دائبین “ سے بہتر تعبیر کا تصور نہیں ہوسکتا ۔