Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ روایات اسلامی میں شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ

										
																									
								

Ayat No : 24-27

: ابراهيم

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ۲۴تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ۲۵وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ۲۶يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۲۷

Translation

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے. یہ شجرہ ہر زمانہ میں حکم پروردگار سے پھل دیتا رہتا ہے اور خدا لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے کہ شاید اسی طرح ہوش میں آجائیں. اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی کوئی بنیاد نہ ہو. اللہ صاحبان هایمان کو قول ثابت کے ذریعہ دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالمین کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور وہ جو بھی چاہتا ہے انجام دیتا ہے.

Tafseer

									۳۔ روایات ِ اسلامی میں شجرہ یبہ اور شجرہ خبیثہ : جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ ”طیبہ “اور خبیثہ “ کہ جنہیں دو درختوں سے تشبیہ دی گئی ہے ایک وسیع مفہوم رکتھے ہیں او ریہ ہر طرح کے شخص ، پروگرام ، مکتب ، فکر و نظر ، سوچ بچار اور گفتار و عمل پر محیط ہے لیکن بعض اسلامی روایات میں اس کی خاص حوالوں سے تفسیر کی گئی ہے ۔ واضح ہے کہ مفہوم ِ آیت ان میں منحصر نہیں ہے ۔ 
ان میں سے ایک روایت امام صادق علیہ السلام مروی ہے آپ ”اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء “ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
رسول اللہ اصلھا و امیر المومنین فرعھا ، 
و الائمہ من ذریتھما اغصانھا ، و علم الائمہ ثمر ھا ، و شیعتھم الموٴمنون ورقھا، ھل فیھا فضل؟ 
قال : قلت لا واللہ ، 
قال و اللہ ان المومن لیولد فتورق ورقة فیھا و ان الموٴمن لیموت فتسقطو رقة منھا ۔
رسول اللہ اس درخت کی جڑ ہیں ۔ امیر المومنین علی (علیه السلام) اس کا تنا ہیں اور وہ امام جو ان دونوں کی ذریت میں سے ہیں ا س کی ٹہنیاں ہیں اور آئمہ کا علم اس درخت کا پھل ہے اور ان کے صاحب ِ ایمان شیعہ اس کے پتے ہیں ۔ 
پھر امام نے فرمایا کیاکوئی اور چیز باقی رہ جاتی ہے ؟
راوی کہتا ہے : میں نے کہا نہیں ، خدا کی قسم ۔ 
فرمایا: و اللہ جس وقت ایک صاحب ِ ایمان پیدا ہوتا ہے تو اس درخت پر ایک پتے کا اضافہ ہو جاتا ہے اور جس وقت کوئی حقیقی مومن مرجاتا ہے اور جس وقت کوئی حقیقی مومن مر جاتا ہے تو اس درخت کا ایک پتہ گر جاتا ہے ۔ 3
ایک روایت میں یہی مضمون امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔ اس میں ہے : 
راوی نے سوال کیا :” توٴتی اکلھا کل حین باذن ربھا“کا کیا مفہوم ہے ۔ 
امام (علیه السلام) نے فرمایا: آئمہ کے علم کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر سال اور ہر علاقے میں تم تک آپہنچتا ہے ۔ 4
ایک اور روایت میں ہے :
” شجرہ طیبہ “ رسول اللہ ، علی ، حسن اور حسین اور ان کے فرزند ان ِ گرامی ہیں اور ” شجرہ خبیثہ “بنی امیہ ہیں ۔ 5
نیز بعض روایا ت میں یہ بھی شرط ہے کہ ” شجرہ طیبہ “ کھجور کا درخت ہے اور ”شجرہ خبیثہ “ حنظل“ ( تُمّہ ) کا درخت ہے ۔6
بہر حال ان تفاسیر میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے ۔ جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے او رجو کچھ ہم نے آیہ کے عمومی معنی میں ذکر کیا ہے اس میں ہم آہنگی موجود ہے کیونکہ یہ تو اس عمومی مفہوم کے مصادیق میں سے ہیں ۔

 
3۔نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۳۵۔ و ص۵۳۸۔
4۔نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۳۵۔ و ص۵۳۸۔
5۔ المیزان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ،بحوالہ تفسیر در منثور ۔