۲۔ ثبات و استقامت کا اثر
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ۲۴تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ۲۵وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ۲۶يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۲۷
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے. یہ شجرہ ہر زمانہ میں حکم پروردگار سے پھل دیتا رہتا ہے اور خدا لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے کہ شاید اسی طرح ہوش میں آجائیں. اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی کوئی بنیاد نہ ہو. اللہ صاحبان هایمان کو قول ثابت کے ذریعہ دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالمین کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور وہ جو بھی چاہتا ہے انجام دیتا ہے.
۲۔ ثبات و استقامت کا اثر : شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ کی تمام صفات میںسے کہ جو مندرجہ بالا آیات میں ذکر ہوئی ہیں سب سے زیادہ ثبات و عدم ثبات کا مسئلہ سامنے آتا ہے ۔ یہاں تک کہ شجرہ طیبہ کے ثمر کے طور پر آخری زیر بحث آیت میں فرمایا گیا ہے کہ خدا صاحب ِ ایمان افراد کو اپنے ثابت قدم و مستحکم عقیدے کی بناء پر دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے ۔ ا س سے ثبات اور اس کی تاثیر کے مسئلے کی انتہائی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔
عظیم لوگوں کی کامیابی کے عوامل کے بارے میں بہت گفتگو ہوتی ہے لیکن ان تمام میں سے استقامت و پامردی کا درجہ پہلاہے ۔
بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سمجھ بوجھ اور استعداد کے لحاظ سے درمیانے درجے کے ہوتے ہیں یا عمل میں پیش قدمی کے لحاظ سے اوسط درجے کے ہوتے ہیں لیکن انہیں زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں ان کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان کی کامیابیوں کی وجہ سے ثبات و استقامت کو ختم کرنے پر صرف ہوتی ہے ۔ اصولی طور پر حقیقی مومنین کو زندگی کے سخت حوادث اور طوفان کے مقابلے میں ان کے ثبات و استقامت کے حوالے سے پہچاننا چاہئیے ۔