۲۔ ”استفتحوا“کامفہوم
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ ۱۳وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ ۱۴وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ۱۵مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ ۱۶يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِنْ وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ ۱۷
اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کردیں گے یا تم ہمارے مذہب کی طرف پلٹ آؤ گے تو پروردگار نے ان کی طرف وحی کی کہ خبردار گھبراؤ نہیں ہم یقینا ظالمین کو تباہ و برباد کردیں گے. اور تمہیں ان کے بعد زمین میں آباد کردیں گے اور یہ سب ان لوگوں کے لئے ہے جو ہمارے مقام اور مرتبہ سے ڈرتے ہیں اور ہمارے عذاب کا خوف رکھتے ہیں. اور پیغمبروں نے ہم سے فتح کا مطالبہ کیا اور ان سے عناد رکھنے والے سرکش افراد ذلیل اور رسوا ہوگئے. ان کے پیچھے جہّنم ہے اور انہیں پیپ دار پانی پلایا جائے گا. جسے گھونٹ گھونٹ پئیں گے اور وہ انہیں گوارا نہ ہوگا اور انہیں موت ہر طرف سے گھیر لے گی حالانکہ وہ مرنے والے نہیں ہیں اور ان کے پیچھے بہت سخت عذاب لگا ہوا ہے.
۲۔ ”استفتحوا“کامفہوم :اس لفظ کی تفسیر کے بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔ بعض اسے فتح و کامرانی کے تقاضا کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیاہے ۔ اس اس کا شاہد سورہ انفال کی آیہ ۱۹ میں ہے :
ان تستفتحوا فقد جائکم الفتح
اے مومنین ! اگر تم فتح و کامرانی کا تقاضا کرتے ہوئے تو یہ فتح و کامرانی تمہارے پاس آگئی ہے ۔
بعض قضا وت کا تقاضا کرنے کا معنی لیتے ہیں ۔ یعنی انبیاء نے خدا سے تقاضا کیا کہ ان کے اور کافروں کے درمیان فیصلہ کرے ۔ اس کا شاہد سورہ اعراف کی آیہ ۸۹ ہے :
ربنا افتح بیننا و بین قومنابالحق و انت خیر الفاتحین
خدا وند !ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ کر اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔