Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ ایک جابر حکمران اور قرآن کی یہ آیت

										
																									
								

Ayat No : 13-17

: ابراهيم

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ ۱۳وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ ۱۴وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ۱۵مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ ۱۶يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِنْ وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ ۱۷

Translation

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کردیں گے یا تم ہمارے مذہب کی طرف پلٹ آؤ گے تو پروردگار نے ان کی طرف وحی کی کہ خبردار گھبراؤ نہیں ہم یقینا ظالمین کو تباہ و برباد کردیں گے. اور تمہیں ان کے بعد زمین میں آباد کردیں گے اور یہ سب ان لوگوں کے لئے ہے جو ہمارے مقام اور مرتبہ سے ڈرتے ہیں اور ہمارے عذاب کا خوف رکھتے ہیں. اور پیغمبروں نے ہم سے فتح کا مطالبہ کیا اور ان سے عناد رکھنے والے سرکش افراد ذلیل اور رسوا ہوگئے. ان کے پیچھے جہّنم ہے اور انہیں پیپ دار پانی پلایا جائے گا. جسے گھونٹ گھونٹ پئیں گے اور وہ انہیں گوارا نہ ہوگا اور انہیں موت ہر طرف سے گھیر لے گی حالانکہ وہ مرنے والے نہیں ہیں اور ان کے پیچھے بہت سخت عذاب لگا ہوا ہے.

Tafseer

									۳۔ ایک جابر حکمران اور قرآن کی یہ آیت : تواریخ اور تفسیر میں آیاہے کہ ایک دن جابر حکمراں ولید بن یزید عب الملک اموی نے اپنے مستقبل کے لئے قرآن سے فال نکالی ۔ اتفاقاً ابتدائے صفحہ میں یہ آیت اس کے سامنے آگئی :”واستفتحوا وخاب کل جبار عنید “ ۔ 
وہ بہت زیادہ پریشان ہوا ۔ اسے سخت غصہ آیا ۔ یہاں تک کہ اس لعین نے وہ قرآن جو اس کے ہاتھ میں تھا پارہ پارہ کردیا پھر یہ اشعار پرھے :
اتوعد کل جبار عنید ؟ فھا انا ذاک جبار عنید 
اذا ماجئت ربک یوم حشر فقل یا رب مزقنی الولید 
کیا توہے کہ جو ہر جبار عنید کو دھمکا تا ہے ؟ 
تویہ لے میں وہی جبار عنید ہوں 
جب روز حشر اپنے پر وردگار سے ملنا 
تو کہہ دینا خداوندا ! مجھے ولید نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا 
زیادہ وقت نہ گزارا کہ یہ لعین اپنے دشمنوں کے ہاتھوں بد ترین طریقے سے مارا گیا ۔ انہوں نے اس کا سر کاٹ کر اسی کے محل کی چھت پر لٹکادیا اور پھر وہاں سے ہٹاکر شہر کے دروازے پر لٹکا دیا ۔ ( تفسیر قرطبی ص ۳۵۷۹) ۔