Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ مقام ِ پروردگار سے کیا مراد ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 13-17

: ابراهيم

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ ۱۳وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ ۱۴وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ۱۵مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ ۱۶يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِنْ وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ ۱۷

Translation

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کردیں گے یا تم ہمارے مذہب کی طرف پلٹ آؤ گے تو پروردگار نے ان کی طرف وحی کی کہ خبردار گھبراؤ نہیں ہم یقینا ظالمین کو تباہ و برباد کردیں گے. اور تمہیں ان کے بعد زمین میں آباد کردیں گے اور یہ سب ان لوگوں کے لئے ہے جو ہمارے مقام اور مرتبہ سے ڈرتے ہیں اور ہمارے عذاب کا خوف رکھتے ہیں. اور پیغمبروں نے ہم سے فتح کا مطالبہ کیا اور ان سے عناد رکھنے والے سرکش افراد ذلیل اور رسوا ہوگئے. ان کے پیچھے جہّنم ہے اور انہیں پیپ دار پانی پلایا جائے گا. جسے گھونٹ گھونٹ پئیں گے اور وہ انہیں گوارا نہ ہوگا اور انہیں موت ہر طرف سے گھیر لے گی حالانکہ وہ مرنے والے نہیں ہیں اور ان کے پیچھے بہت سخت عذاب لگا ہوا ہے.

Tafseer

									۱۔ مقام ِ پر وردگار سے کیا مراد ہے ؟ مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ ظالموں پر کامیابی اور ان کی نابودی کے بعد زمین پر حکومت ان افراد کاحصہ ہے کہ جو ”مقام ِ الہٰی “ سے ڈریں ۔ یہاں لفظ ” مقام “ سے کیا مراد ہے ۔ اس سلسلے میں مختلف احتمالات پیش کئے گئے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تمام احتمالات صحیح ہوں آیت سے سب مراد ہوں :
الف: اس سے مراد محاسبہ کرتے وقت پر وردگار کی حیثیت ہے ۔ جیسا کہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں بھی آیا ہے ۔مثلاً
و امامن خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوٰی 
مگر جو شخص اپنے پر وردگار کے سامنے کھڑے ہونے ڈرتارہا اور جی کو نا جائز خواہشوں سے روکتا رہا ۔ ( نازعات ۔ ۴۰) ۔
اور ولمن خاف مقام ربہ جنتان 
اور جو شخص اپنے پر وردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتارہا اس کے لئے دوباغ ہیں (رحمن ۔ ۴۶) ۔
ب:”مقام “ ”قیام “ کے معنی میں ہے اور ”قیام “ نظارت و نگرانی “ کے معنی میں ہے یعنی جواللہ کی طرف سے اپنے اعمال کی شدید نظارت سے ڈرتا ہے اور احساسِ مسئولیت کرتا ہے ۔ 
ج:”مقام “ اجرائے عدالت اور احقاق ، حق کے لئے قیام کرنے کے معنی میں ہے یعنی جو پر وردگار کی اس حیثیت سے ڈرتے ہیں ۔ 
بہرحال جیس اکہ ہم نے کہا ہے کہ کوئی مانع نہیں کہ آیت کے مفہوم میں یہ سب معانی جمع ہوں ۔ یعنی وہ لوگ کہ جو خدا کو اپنے اوپر ناظر و نگران سمجھتے ہیں اور اس کے حساب اور اجزائے عدالت سے ڈرتے ہیں اور ان کا یہ خوف اصلاحی ہے کہ جو انہیں ہر کام میں احساس ذمہ داری کی دعوت دیتا ہے اور انہیں ہر قسم کی نا انصافی ، ظلم اور گناہ سے روکتا ہے ، کامیابی اور روئے زمین پر حکومت آخر کار انہی کا حصہ ہے ۔