۲۔ انبیاء اور معجزات
قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ۱۱وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ۱۲
ان سے رسولوں نے کہا کہ یقینا ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں لیکن خدا جس بندے پر چاہتا ہے مخصوص احسان بھی کرتا ہے اور ہمارے اختیار میں یہ بھی نہیں ہے کہ ہم بلااذنِ خدا کوئی دلیل یا معجزہ لے آئیں اور صاحبان هایمان تو صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں. اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ اسی نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت دی ہے اور ہم یقینا تمہاری اذیتوں پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والے تو اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں.
۲۔ انبیاء اور معجزات: زیر بحث آیات ایسے لوگوں کے لئے واضح جواب ہیں کہ جو انبیاء سے معجز کی نفی کرتے ہیں یا قرآن حکیم کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے معجزات کا انکار کرتے ہیں ۔ یہ آیات ہمیں سمجھاتی ہیں کہ انبیاء یہ ہر گز نہیں کہتے تھے کہ ہم معجزہ نہیں لائیں گے بلکہ وہ کہتے تھے کہ ہم حکم خدا اور اذن الہٰی کے بغیر یہ کام نہیں کریں گے کیونکہ معجزہ اس کاکام ہے ، ا س کے اختیار میں ہے اور جب وہ قرینِ مصلحت سمجھتا ہے ہمیں معجزہ دیتا ہے ۔