Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ انبیاء اور معجزات

										
																									
								

Ayat No : 11-12

: ابراهيم

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ۱۱وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ۱۲

Translation

ان سے رسولوں نے کہا کہ یقینا ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں لیکن خدا جس بندے پر چاہتا ہے مخصوص احسان بھی کرتا ہے اور ہمارے اختیار میں یہ بھی نہیں ہے کہ ہم بلااذنِ خدا کوئی دلیل یا معجزہ لے آئیں اور صاحبان هایمان تو صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں. اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ اسی نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت دی ہے اور ہم یقینا تمہاری اذیتوں پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والے تو اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں.

Tafseer

									۲۔ انبیاء اور معجزات: زیر بحث آیات ایسے لوگوں کے لئے واضح جواب ہیں کہ جو انبیاء سے معجز کی نفی کرتے ہیں یا قرآن حکیم کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے معجزات کا انکار کرتے ہیں ۔ یہ آیات ہمیں سمجھاتی ہیں کہ انبیاء یہ ہر گز نہیں کہتے تھے کہ ہم معجزہ نہیں لائیں گے بلکہ وہ کہتے تھے کہ ہم حکم خدا اور اذن الہٰی کے بغیر یہ کام نہیں کریں گے کیونکہ معجزہ اس کاکام ہے ، ا س کے اختیار میں ہے اور جب وہ قرینِ مصلحت سمجھتا ہے ہمیں معجزہ دیتا ہے ۔