۱۔ مومنین اور متوکلین
قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ۱۱وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ۱۲
ان سے رسولوں نے کہا کہ یقینا ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں لیکن خدا جس بندے پر چاہتا ہے مخصوص احسان بھی کرتا ہے اور ہمارے اختیار میں یہ بھی نہیں ہے کہ ہم بلااذنِ خدا کوئی دلیل یا معجزہ لے آئیں اور صاحبان هایمان تو صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں. اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ اسی نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت دی ہے اور ہم یقینا تمہاری اذیتوں پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والے تو اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں.
۱۔ مومنین اور متوکلین : زیر بحث پہلی آیت میں ہے کہ مومنین کو اللہ پر توکل کرنا چاہیئے اور دوسری آیت میںہے کہ متوکلین کو اللہ پر توکل کرنا چاہئیے ۔ گویا دوسرا جملہ پہلے کی نسبت زیادہ وسعت کا حامل ہے یعنی مومنین کے لئے تو آسان ہے کیونکہ خدا پر ایمان ہو تو یہ ایمان اس کی قدرت ، حمایت اور اس پر توکل کے ایمان سے جد ا نہیں ہوسکتا حتی کہ غیر مومنین اور سب لوگوں کے پاس خدا کے علاوہ کوئی سہار ا نہیں ہے ۔ کیونکہ جس کی طرف بھی نگاہ کریں اسکے پاس خود اپنی طرف سے تو کچھ بھی نہیں تمام نعمتیں ، طاقتیں اور عنایتیں اس کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہیں پس انہیں بھی اس کے آستان پر سر جھکا نا چاہیئے اور اس سے طلب کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ توکل انہیں اللہ پر ایمان کی دعوت بھی دے گا ۔