Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ توکل کی حقیقت اور فلسفہ

										
																									
								

Ayat No : 11-12

: ابراهيم

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ۱۱وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ۱۲

Translation

ان سے رسولوں نے کہا کہ یقینا ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں لیکن خدا جس بندے پر چاہتا ہے مخصوص احسان بھی کرتا ہے اور ہمارے اختیار میں یہ بھی نہیں ہے کہ ہم بلااذنِ خدا کوئی دلیل یا معجزہ لے آئیں اور صاحبان هایمان تو صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں. اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ اسی نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت دی ہے اور ہم یقینا تمہاری اذیتوں پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والے تو اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں.

Tafseer

									۳۔ توکل کی حقیقت اور فلسفہ : ”توکل“ در اصل ”وکالت“ کے مادہ سے وکیل انتخاب کرنے کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا وکیل وہی ہے کو کم از کم چار صفات کا حامل ہو:
۱۔ کافی علم و آگاہی ۔ ۲۔ امانت داری ۔ ۳۔ طاقت و قدرت ۔ ۴۔ ہمدردی 
شاید یہ امر بھی یا دلانے کی ضرورت نہ ہو کہ مضتلد کاموں کے لئے ایک مدافع کا انتخاب اس موقع پر ہوتا ہے کہاں انسان ذاتی طور پر دفاع پر قادر نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس موقع پر دوسری قوت سے استفادہ کرتا ہے اور اس کی طاقت و صلاحیت سے اپنی مشکل حل کرتا ہے ۔ 
لہٰذا خد اپر توکل کرنے کا اس کے علاوہ کوئی مفہوم نہیں کہ انسان زندگی کی مشکلات وحوادث ، مخالفین کی دشمنیوں اور سختیوں ،پیچیدگیوں اور کبھی اہداف کے راستے میں حائل رکاوٹوں میں جب خود انہیں دور کرنے کی طاقت نہ ررکھتا ہو تو اسے پنا وکیل قرار دے اور اس پر بھروسہ کرے اور خود بھی ہمت و کوشش سے باز نہ رہے بلکہ جہاں کسی کام کو خود انجام دینے کی طاقت رکھتا ہووہاں بھی موٴ ثر حقیقی خداہی کو جانے کیونکہ ایک موحد کی چشم بصیرت کے دریچے سے دیکھا جائے تو تمام قدرتوں او ر قوتوں کا سر چشمہ وہی ہے ۔ 
” توکل علی اللہ “ کا نقطہ مقابل یہ ہے کہ اس کے غیر پر بھروسہ کیا جائے ۔ یعنی کسی غیر پر تکیہ کرکے جینا ، دوسرے سے وابستہ ہونا اور اپنی ذات میں استقلال و اعتماد سے عاری ہونا ۔ 
علماء اخلاق کہتے ہیں کہ خد اکی توحید افعالی کا ثمرہٴ مستقیم توکل ہے کیونکہ جیسے ہم نے کہا ہے کہ ایک موحد کی نظر میں ہر حرکت ، ہو کوشش، ہر جنبش اور عالم میں صورت پذیر ہونے والی ہر چیز آخرکار اس جہان کی پہلی علت یعنی ذات ِ پاک خدا سے ارتباط رکھتی ہے ۔ لہٰذا ایک موٴحد کی نگاہ میں تمام طاقتیں اور کامیابیاں اسی کی طرف سے ہیں ۔