۲۔ جابروں کے طور طریقے
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۴وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ ۵وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنْجَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ ۶وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ۷
اور ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ لوگوں پر باتوں کو واضح کرسکے اس کے بعد خدا جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے وہ صاحب هعزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی. اور ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو ظلمتوں سے نور کی طرف نکال کر لائیں اور انہیں خدائی دنوں کی یاد دلائیں کہ بیشک اس میں تمام صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور اس وقت کو یاد کرو جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دلائی جب کہ وہ بدترین عذاب میں مبتلا کررہے تھے کہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو (کنیزی کے لئے)زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑا سخت امتحان تھا. اور جب تمہارے پروردگار نے اعلان کیا کہ اگر تم ہمارا شکریہ اد اکرو گے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو ہمارا عذاب بھی بہت سخت ہے.
۲۔ جابروں کے طور طریقے : ہم نے بار ہا قرآنی آیات میں پڑھا ہے کہ فرعونی بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے ۔ یہ کام صرف فرعون اور فرعونی نہیں کرتے تھے بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہر استعمار گر کا یہی شیوہ اور طریقہ تھا کہ وہ فعال جنگجو اور پر عز م قوتوں کا ایک حصہ نابود کردیتے اور دوسرے کو کمزور کرکے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے استعماری اور استثماری کام کاری نہیں رکھ سکتے تھے ۔
لیکن اہم با ت یہ کہ سمجھیں کہ ایسی قوتیں کبھی تو فرعونیوں کی طرح لڑکوں کو نابود ہی کردیتی ہیں او رکبھی منشیات ، شراب اور بدکاری جیسی بری عادتوں میں غرق کرکے فعال قوتوں کو ناکارہ بنادیتی ہیں اور انہیں زندہ نما مردہ بنادیتی ہیں ۔یہی وہ چیز ہے کہ جس پر مسلمانوں کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ان کی نسل ِ نو ایسے کاموں پر پڑگئی اور اپنی ایمانی جسمانی قوت گنوابیٹھی تو پھر انہی جان لینا چاہئیے کہ ان کے لئے غلامی یقینی ہے ۔