۱۔ ایام اللہ کی یاد آوری
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۴وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ ۵وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنْجَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ ۶وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ۷
اور ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ لوگوں پر باتوں کو واضح کرسکے اس کے بعد خدا جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے وہ صاحب هعزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی. اور ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو ظلمتوں سے نور کی طرف نکال کر لائیں اور انہیں خدائی دنوں کی یاد دلائیں کہ بیشک اس میں تمام صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور اس وقت کو یاد کرو جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دلائی جب کہ وہ بدترین عذاب میں مبتلا کررہے تھے کہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو (کنیزی کے لئے)زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑا سخت امتحان تھا. اور جب تمہارے پروردگار نے اعلان کیا کہ اگر تم ہمارا شکریہ اد اکرو گے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو ہمارا عذاب بھی بہت سخت ہے.
۱۔ ایام اللہ کی یاد آوری : جیسا کہ ہم نے مندر جہ بالا آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ” اللہ “ کی طرف ” ایام “ کی اضافت انسانوں کی زندگی کے اہم اور تقدیر ساز دنوں کی طرف اشارہ ہے اور ان دنوں کی عظمت کی بناء پر انہیں خداکی طرف نسبت دی گئی ہے ۔ نیز اس بناء پر کہ اگر ایک عظیم نعمت الہٰی کسی لائق قوم کے شامل حال ہو۔ یا عظیم عذابِ الٰہی کسی سر کش و طغیان گر قوم کو دمن گیر ہو تو دونوں صورتوں میں تذکرہ کرو یا د وآوری کے لائق ہے ۔
آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقوم روایات میں ”ایام اللہ “ کی تفسیر مختلف دنوں سے کی گئی ہے ۔
ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
ایام اللہ ، یوم یقوم القائم (علیه السلام) و یوم الکرّة و یوم القیامة
ایام اللہ مہدی موعود (علیه السلام)کے قیامکا دن ، رو ز رجعت او رقیامت ہیں ۔ 1
تفسیر علی بن ابراہیم میں ہے :
”ایام اللہ “ تین دن ہیں قیام مہدی (علیه السلام) کا دن ، موت کا دن اور قیامت کا دن ۔2
ایک اور حدیث میںپیغمبر اکرم سے منقول ہے :
ایام اللہ نعمائہ وبلائہ و ببلائہ سبحانہ
ایام اللہ اس کی نعمتوں اور اس کی طرف مصائب کے ذریعے آز مائشوں کے دن ہیں ۔ 3
جیسا کہ ہم نے با رہا کہا ہے کہ اس قسم کی احادیث کبھی بھی اس با ت کی دلیل نہیں ہیں کہ مفہوم انہی میں منحصر ہے بلکہ ان میں بعض مصادیق کے بعض حصوں کا بیان ہے ۔
بہر حال عظیم دنوں کی یاد آوری ( چاہے وہ کامیابی کے دن ہو یا سختی کے ) ملتوں کی بیداری اور ہوشیاری میں بہت موٴثر ہوتی ہے ۔ اسی آسمانی پیام سے ہدایت لیتے ہوئے ہم تاریخ اسلام کے عظیم دنوں کی یاد زندہ و جاوداں رکھتے ہیں اور ان یادوں کو تازہ کرنے کے لئے ہر سال ہم نے کچھ دنوں کو مخصوص کیا ہوا ہے ، ان دنوں میں ہم اپنے ماضی کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اس سے ہم درس لیتے ہیں ، ایسے درس کہ جو ہمارے آج کے لئے بہت زیا دہ موٴثر ہیں ۔
نیز ہماری موجودہ تاریخ خصوصاً انقلاب ِ اسلامی ایرا ن کی پر شکوہ تاریخ میں بہت دن ایسے ہیں جو” ایام اللہ “ کے مصادیق ہیں ۔ ہر سال ہمیں ان کی یاد زندہ رکھنا چاہئیے ایسی یاد کہ جس میں شہیدوں ، غازیوں ، مجاہدوں اور عظیم دلاوروں کی یاد ررچی بسی ہو اور پھر ان سے ہدایت لینا چاہیئے ۔
لہٰذا ان عظیم دنوں کا ذکر ہمارے مدارس کی درسی کتب میں ہونا چاہئیے اور ان کی یاد ہماری اولاد کی تعلیم و تربیت کاحصہ ہونا چاہئے اور ہمیں آئندہ نسلوں کے بارے میں ” ذکرھم “ (انہیں یاد دلاوٴ) کی ذمہ داری پوری کرنا چاہئیے ۔
قرآن مجید میں بھی بار ہا ” ایام اللہ “ کی یاد دہانی کر وائی گئی ہے ۔ بنی اسرائیل کے بارے میں بھی او رمسلمانوں کے بارے میں بھی نعمتوں اور سختیوں کے دنوں کو یاد رکھا گیا ہے ۔