۔ سب سے بڑی نعمت آزادی ہے
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۴وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ ۵وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنْجَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ ۶وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ۷
اور ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ لوگوں پر باتوں کو واضح کرسکے اس کے بعد خدا جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے وہ صاحب هعزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی. اور ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو ظلمتوں سے نور کی طرف نکال کر لائیں اور انہیں خدائی دنوں کی یاد دلائیں کہ بیشک اس میں تمام صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور اس وقت کو یاد کرو جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دلائی جب کہ وہ بدترین عذاب میں مبتلا کررہے تھے کہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو (کنیزی کے لئے)زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑا سخت امتحان تھا. اور جب تمہارے پروردگار نے اعلان کیا کہ اگر تم ہمارا شکریہ اد اکرو گے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو ہمارا عذاب بھی بہت سخت ہے.
۳۔ سب سے بڑی نعمت آزادی ہے : یہ امر جاذب نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ” ایام اللہ “ کے ذکر کے بعد صرف ایک دن کا ذکر کیا گیا ہے ۔ وہ دن کہ جو فرعونیوں کے چنگل سے بنی سرائیل کی نجات کا دن ہے (اذانجٰکم من ایل فرعون)حالانکہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں اور بھی بہت سے عظیم دن تھے کہ جن میں حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی ہدایت کے زیر سایہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عظیم نعمتیں بخشی تھیں لیکن زیر بحث آیات میں ” یوم نجات“ کا ذکر قوموں کی سر نوشت میں آزادی اور استقلال کی انتہائی اہمیت کی دلیل ہے ۔
جی ہاں ! جب تک کوئی قوم وابستگی سے نجات حاصل نہ کرے ، غلامی اور استعمار کے چنگل سے آزاد ہو اس کی صلاحتیں استعداد اور کمال ظاہر نہیں ہوسکتا اور وہ اللہ کی راہ میں قدم نہیں رکھ سکتی وہ راہ کہ شرک ، ظلم اور بیدار کے خلاف قیام کا راستہ ہے ۔
اسی بناء پر عظیم الہٰی رہبرو ں کا پہلا کا یہی تھا کہ وہ قوموں کو فکری ، ثقافتی ، سیاسی او ر اقتصادی غلامی سے آزاد کروائیں اور اس کے بعدکوئی اور کام کریں اور توحید و انسانیت کے پروگراموں کو عملی شکل دیں۔