۱۔ آیت ”لعلّ“ کا مفہوم:
فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَنْ يَقُولُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ ۚ إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ۱۲أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۱۳فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَأَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ۱۴
پس کیا تم ہماری وحی کے بعض حصوں کو اس لئے ترک کرنے والے ہو یا اس سے تمہارا سینہ اس لئے تنگ ہوا ہے کہ یہ لوگ کہیں گے کہ ان کے اوپر خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا ان کے ساتھ َمُلک کیوں نہیں آیا ...تو آپ صرف عذاب الٰہی سے ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر شئے کا نگراں اور ذمہ دار ہے. کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن بندے نے گڑھ لیا ہے تو کہہ دیجئے کہ اس کے جیسے دس سورہ گڑھ کر تم بھی لے آؤ اور اللہ کے علاوہ جس کو چاہو اپنی مدد کے لئے بلالو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو. پھر اگر یہ آپ کی بات قبول نہ کریں تو تم سب سمجھ لو کہ جو کچھ نازل کیا گیا ہے سب خدا کے علم سے ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو کیا اب تم اسلام لانے والے ہو.
۔ آیت ”لعلّ“ کا مفہوم:
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ”لعلّ“ عام طور پر کسی چیز کے بارے میں توقع کا اظہار کے لئے آتا ہے، البتہ یہاں یہ لفظ نہیں کے معنی میں آیا ہے، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو کسی چیز سے روکنا چاہے تو کہے: شاید تیری دوستی اس شخص سے جو اپنے کاموں میں زیادہ پختہ کار نہیں ہے، یعنی اس سے دوستی نہ رکھ کیونکہ اس کی دوستی تجھے سُست اور بیکار بنادے گی، لہٰذا ایسے مواقع پر ”لعلّ“ اگرچہ ”شاید“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تاہم اس کا التزامی مفہوم کسی کام کے کرنے سے روکنا ہے ۔
زیرِ بحث آیات میں بھی خداتعالیٰ اپنے پیغمبر کو تاکید کرتا ہے کہ آیات الٰہی کی تبلیغ مخالفین کی تکذیب کے ڈرسے یا دل خواہ معجزات کے تقاضے کی وجہ سے تاخیر میں نہ ڈالیں ۔