Tafseer e Namoona

Topic

											

									  قرآن ایک معجزہٴ جادواں

										
																									
								

Ayat No : 12-14

: هود

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَنْ يَقُولُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ ۚ إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ۱۲أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۱۳فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَأَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ۱۴

Translation

پس کیا تم ہماری وحی کے بعض حصوں کو اس لئے ترک کرنے والے ہو یا اس سے تمہارا سینہ اس لئے تنگ ہوا ہے کہ یہ لوگ کہیں گے کہ ان کے اوپر خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا ان کے ساتھ َمُلک کیوں نہیں آیا ...تو آپ صرف عذاب الٰہی سے ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر شئے کا نگراں اور ذمہ دار ہے. کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن بندے نے گڑھ لیا ہے تو کہہ دیجئے کہ اس کے جیسے دس سورہ گڑھ کر تم بھی لے آؤ اور اللہ کے علاوہ جس کو چاہو اپنی مدد کے لئے بلالو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو. پھر اگر یہ آپ کی بات قبول نہ کریں تو تم سب سمجھ لو کہ جو کچھ نازل کیا گیا ہے سب خدا کے علم سے ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو کیا اب تم اسلام لانے والے ہو.

Tafseer

									ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم بعض اوقات دشمنوں کی شدید مخالفت اور ہٹ دھرمی کی بناء پر بعض آیات کی تبلیغ کسی موقع کے لئے ملتوی رکھتے تھے ۔
لہٰذا زیرِ بحث پہلی آیت میں خداوندِعالم اس بیان کے ساتھ اپنے پیغمبر کو اس کام سے منع فرماتا ہے: گویا بعض آیات کی تبلیغ کہ جن کی وحی ہوتی ہے، ترک کردیتے ہو اور اس لحاظ سے تمھارا دل تنگ اور مضطرب ہوجاتا ہے (فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ بَعْضَ مَا یُوحیٰ إِلَیْکَ وَضَائِقٌ بِہِ صَدْرُکَ) ۔
اور اس بات سے ناراحت ہوجاتے ہو کہ شاید وہ تجھ سے من پسند معجزات کی خواہش کریں اور ”کہتے ہیں کیوں اس پر خزانہ نازل نہیں ہوا یا کیوں اس کے ہمراہ فرشتہ نہیں آیا (اٴَنْ یَقُولُوا لَوْلَااٴُنزِلَ عَلَیْہِ کَنزٌ اٴَوْ جَاءَ مَعَہُ مَلَکٌ)
البتہ جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے مثلاً سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۹۰ تا ۹۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تقاضا اس بناء پر نہ تھا کہ وہ قبولِ حق کے لئے اور دعوت کی صداقت کے لئے معجزہ دیکھیں بلکہ وہ یہ تقاضا بہانہ جوئی، ہٹ دھرمی اور عناد کے باعث کرتے تھے لہٰذا قرآن بلافاصلہ کہتا ہے: تو صرف خوف دلانے اور ڈرانے والا ہے (إِنَّمَا اٴَنْتَ نَذِیرٌ) ۔یعنی چاہے قبول کریں یا نہ کریں، تمسخر اڑائیں اور ہٹ دھرمی سے کام لیں ۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا ہر چیز ا حافظ، نگہبان اور ناظر ہے (وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ) یعنی ان کے ایمان وکفر کی پرواہ نہ کرو اور یہ معاملہ تمھارے ساتھ مربوط نہیں ہے ، تمھاری ذمہ داری ابلاغ اور پیغام پہنچانا ہے، خدا خود جانتا ہے کہ ان کے کس طرح سلوک کرے اور وہی ان کے ہر کام کا حساب کتاب رکھنے والا ہے ۔
یہ بہانہ جوئی اور اعتراض تراشی چونکہ اس بناء پر تھی کہ وہ اصولی طور پر وحی الٰہی کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نہیں ہیں، یہ جملے محمد نے خود جھوٹ موٹ خداپر باندھے ہیں، اسی لئے بعد والی آیت اس بات کا جواب جتنی صراحت سے ہوسکتا تھا دیتے ہوئے کہتی ہے: وہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ (آیات) خدا پر افتراء باندھی ہیں (اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ) ۔”ان سے کہہ دو اگر سچ کہتے ہو کہ یہ انسانی دماغ کی تخلیق ہیں تو تم بھی اس قسم کی دس جھوٹی سورتیں بناکر لاوٴ اور خدا کو چھوڑکر جس سے ہوسکتا ہے اس میں مدد کی دعوت دو (قُلْ فَاٴْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِہِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ) ۔ لیکن اگر انھوں نے تم مسلمانوں کی دعوت قبول نہ کی اور کم از کم ایسی دس سورتیں بھی نہ لانے تو پھر جان لو کہ یہ کمزوری اور ناتوانی اس بات کی نشانی ہے کہ ان آیات کا سرچشمہ علمِ الٰہی ہے ورنہ اگر یہ فکر بشر ہی ہیں (فَإِلَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا اٴُنزِلَ بِعِلْمِ اللهِ) ۔
نیز جان لو کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور ان آیاتِ پُر اعجاز کا نزول اس حقیقت کی دلیل ہے (وَاٴَنْ لَاإِلَہَ إِلاَّ ھُوَ) ۔
اے مخالفین! کیا اس حالت میں تم فرمانِ الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کروگے (فَھَلْ اٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ) ۔ باوجودیکہ ہم نے تمھیں مقابلے کی دعوت دی ہے اور اس دعوت پر تمھارا عجز ثابت ہوگیا ہے کیا اس کے باوجود کوئی شک کی کی گنجائش باقی ہے کہ یہ آیات خدا کی طرف سے ہیں، اس واضح معجزہ کے ہوتے ہوئے کیا پھر بھی تم ان کی راہ پر چلوگے یا سرِ تسلیم خم کرلوگے ۔