Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۵۔ اعمالِ نیک کے اثرات

										
																									
								

Ayat No : 8-11

: هود

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۸وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ ۹وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ ۱۰إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ۱۱

Translation

اور اگر ہم ان کے عذاب کو ایک معینہ مدّت کے لئے ٹال دیں تو طنز کریں گے کہ عذاب کو کس چیز نے روک لیا ہے -آگاہ ہوجاؤ کہ جس دن عذاب آجائے گا تو پھر پلٹنے والا نہیں ہے اور پھر وہ عذاب ان کو ہر طرف سے گھیر لے گا جس کا یہ مذاق اڑا رہے تھے. اور اگر ہم انسان کو رحمت دے کر چھین لیتے ہیں تو مایوس ہوجاتا ہے اور کفر کرنے لگتا ہے. اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد نعمت اور آرام کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ اب تو ہماری ساری برائیاں چلی گئیں اور وہ خوش ہوکر اکڑنے لگتا ہے. علاوہ ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں کہ ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر بھی ہے.

Tafseer

									اعمالِ نیک کے دو اثرات ذکر ہوئے ہیں، زیرِ نظر آخری آیت میں باایمان، صاحب استقامت اور صالح افراد سے ”مغفرت“ اور بخشش گناہ کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور ”اجرِ کبیر“ کا بھی، یہ اس جانب اشارہ ہے کہ نیک اعمال کے دو اثر ہیں ایک گناہوں کا دھل جانا اور دوسرا بڑی جزا کا حاصل ہونا ۔

۱۲ فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ بَعْضَ مَا یُوحیٰ إِلَیْکَ وَضَائِقٌ بِہِ صَدْرُکَ اٴَنْ یَقُولُوا لَوْلَااٴُنزِلَ عَلَیْہِ کَنزٌ اٴَوْ جَاءَ مَعَہُ مَلَکٌ إِنَّمَا اٴَنْتَ نَذِیرٌ وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ 
۱۳ اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ فَاٴْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِہِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ
۱۴ فَإِلَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا اٴُنزِلَ بِعِلْمِ اللهِ وَاٴَنْ لَاإِلَہَ إِلاَّ ھُوَ فَھَلْ اٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
ترجمہ
۱۲۔ شاید بعض آیات کی تبلیغ کو جن کی تجھ پر وحی ہوئی ہے تو تاخیر میں ڈال دیتا ہے اور تیرا دل اس بناپر تنگ (اور ناراحت ) ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ کیوں اس پر خزانہ نازل نہیں ہوتا یا کیوں فرشتہ اس کے ہمراہ نہیں آیا (تبلیغ کرو اور پریشان نہ ہو کیونکہ) تم صرف ڈرانے والے (اور خدائی خطرات سے آگاہ کرنے والے) ہو اور خدا ہر چیز پر نگہبان ودیکھنے والا ہے (اور وہ ان کا حساب کتاب رکھتا ہے) ۔
۱۳۔ بلکہ وہ کہتے ہیں یہ (قرآن کی) جھوتی نسبت (خدا کی طرف دیتا ہے، ان سے کہدو اگر سچ کہتے ہو توتم بھی ان جیسی جھوٹی مُوٹی ہی دس سورتیں لے آوٴ اور (بجز خدا) اپنی حسبِ استطاعت (اس کام کے لئے) تمام لوگوں کودعوت دو۔
۱۴ ۔ اور اگر وہ تمھاری دعوت قول نہ کریں تو جان لو کہ (یہ کلام) علمِ الٰہی کے ساتھ نازل ہوا ہے اور اس کے سوا کوئی معبور نہیں، کیا ان حالات میں سرِتسلیم خم کروگے؟۔


شان نزول
ان آیات کے لئے دوسانِ نزول مذکور ہیں جو ممکن ہے دونوں صحیح ہوں ۔
پہلا یہ کہ کفار مکّہ کا ایک گروہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے پاس آیا، وہ کہنے لگے: اگر سچ کہتے ہو کہ تم خدا کے پیغمبر ہو تو مکہ کے پہاڑ ہمارے لئے سونے کے کردو یا فرشتے لے آوٴ جو تمھاری نبوت کی تصدیق کریں، چنانچہ انکے جواب میں مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ۔
دوسریشان نزول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے، وہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: مَیں نے خدا سے درخواست کی ہے کہ وہ میرے اور تمھارے درمیان برادری اور اخوّت قائم کرے اور یہ درخواست قبول ہوگئی ہے، نیز مَیں نے یہ درخواست کی ہے کہ تمھیں میرا وصی قرار دے اور یہ درخواست بھی مستجاب ہوگئی ہے ۔
جس وقت یہ گفتگو بعض مخالفین کے کانوں تک پہنچی تو عداوت ودشمنی کی بناء پر کہنے لگے خدا کی قسم ایک خشک مشک میں ایک من خرما بہتر ہے اس سے جو محمد نے اپنے خدا سے درخواست کی ہے، (اگر وہ سچ کہتا ہے تو) اسے کیوں خدا سے درخواست نہیں کی کہ دشمنوں کے خلاف مددکرنے کے لئے کوئی فرشتہ نازل فرمائے یا کوئی خزانہ جو فقر وفاقہ سے نجات دلائے ۔
لہٰذا مندرجہ بالا آیات نازل ہوئی تاکہ دشمنوں کو جواب دیا جاسکے ۔