2- "اذا اثمر"
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ۱۴۰
یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا اور جو رزق خدا نے انہیں دیا ہے اسے اسی پر بہتان لگا کر اپنے اوپر حرام کرلیا -یہ سب بہک گئے ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں.
2- "اذا اثمر"
(جس وقت میوہ دے) اس کا ذکر لفظ "ثمره" کے بعد آیا ہے۔ یہ کیا مطلب بیان کرتا ہے؟ مفسرین نے اس بارے میں گفتگو کی ہے لیکن ظاہرًا اس سے یہ غرض ہے کہ جونہی درختوں پر میوہ اور زراعت میں خوشے آشکار ہوجائیں تو ان سے فائدہ اٹھانا مباح اور جائز ہے اگرچہ ان کا حق ادا نہ کیا گیا ہو اور یہ حق ؎2 محصول کاٹنے کے دن (یوم الحصاد) ادا کرنا چاہیئے۔ (غور کیجئے گا)۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اس بارے میں اسی سورہ کی آیت 99 کے ذیل میں ایک توضیع گزرچکی ہے ، ملاحظہ کیجئے ۔
؎2 اس حق سے کیا مراد ہے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے. (مترجم)۔