Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- اس آیت کا سابقہ آیات سے ربط

										
																									
								

Ayat No : 140

: الانعام

قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ۱۴۰

Translation

یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا اور جو رزق خدا نے انہیں دیا ہے اسے اسی پر بہتان لگا کر اپنے اوپر حرام کرلیا -یہ سب بہک گئے ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں.

Tafseer

									  چند اہم نکات
 1- اس آیت کا سابقہ آیات سے ربط
 اس سورہ کی گزشتہ آیات میں بت پرستوں کے خرافاتی احکام و رسوم کے متعلق گفتگو کی گئی تھی کہ وہ لوگ اپنی زراعت اور چوپایوں میں سے خدا کے لیے ایک حصہ مقرر کر دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان حصتوں کو خاص طریقے سے طریقے صرف کرنا چاہیئے۔ نیز بعض چوپایوں پر سواری کو بھی حرام جانتے تھے اور اپنے بچوں کو بعض بڑوں کے لئے قربان کر دیتے تھے۔
 آئہ مذکورہ بالا اور وہ آیت جو بعد میں آنے والی آیت ہے درحقیقت ان تمام خرافی احکام کا جواب ہے کیونکہ اس میں صاف طور پر کہا گیا ہے :-
 ان تمام نعمتوں کا خالق خدا ہے ، وہی ہے جس نے تمام درختوں ، چوپایوں اور کھیتوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جس نے حکم دیا ہے کہ ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اسراف نہ کرو ۔ بنابریں اس کے علاوہکسی اور کو یہ حق نہیں پہنچتا یا کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دے۔