توحید کا ایک عظیم درس
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ۱۴۰
یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا اور جو رزق خدا نے انہیں دیا ہے اسے اسی پر بہتان لگا کر اپنے اوپر حرام کرلیا -یہ سب بہک گئے ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں.
تفسیر
توحید کا ایک عظیم درس
اس آیت شریفہ میں چند امور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک دراصل دوسرے کا نتیجہ ہے ، پہلے ارشاد ہوتا ہے :- اللہ وهی ذات ہے جسے انواع و اقسام کے باغات ، کھیتیاں اور طرح طرح کے درخت پیدا کیے جن میں سے بعض لکڑی کے مچانوں پر پھیلتے ہیں اور اپنے دلآویز منظر سے نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنے لذیذ و بابرکت میووں سے انسان کو شیریں کام کرتے ہیں ۔ بعض درخت ایسے ہیں جنہیں مچان باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ اپنے پیروں پرکھڑے ہو کر انسانوں کے سر پر اپنا سایہ بھی ڈالتے ہیں اور اپنے طرح طرح کے میووں سے انسان کی خدمت کرتے ہیں۔
(وهوالذي انشأ جنات معروشات وغيرمعروشات)
مفسرین نے کلمہ "معروش" و "غیرمعروش" کے سلسلے میں تین احتمالات ذکر کیے ہیں :-
اول :- اس کی طرف سطور بالا میں اشارہ کیا گیا ہے، یعنی ایسے درخت جو اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکتے بلکہ ان کو مچان وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے ، دوسرے وہ درخت جو بغیر مچان کی احتیاج کے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں (کیونکہ "عرش" کے معنی لغت میں پھیلانے اور ہر پھیلی ہوئی چیز کے ہیں، اسی بناء پر چھت یا اپنے پایوں کے
تخت کو بھی عرش کہا جاتا ہے)۔
دوم :- عروش سے مراد گھریلو درخت ہیں جن کی دیوار وغیرہ سے باغوں میں حفاظت کی جاتی ہے اور غیر معروش سے مراد جنگلی اور کوہستانی درخت ہیں ۔
سوم :- معروش ایسا درخت ہے جو پیروں پر کھڑا ہو ، یا زمین پر اٹھا ہوا ہو جبکہ غیرمعروش وہ درخت ہے جو زمین پر بچھ کر پھیلتا ہے۔
لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں ۔ شاید "معروشات" کا تذکرہ آغاز سخن میں اس طرح کے درختوں کی عجیب و حیرت انگیز ساخت کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر ایک مختصر نظر انگور کی بیل ، اس کے تنے اور اس کی پیچدار شاخوں پر کی جائے جو مخصوص علابوں کے ذریعے اپنے کو اطراف کے سہاروں میں جکڑ لیتے ہیں تاکہ اپنی کمر کو سیدھا کرسکے تو اس سے ہمارے دعوے کی تائید ہوتی ہے۔
بعد ازاں دو طرح کے باغوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : کہ اس طرح کھجور کے درخت اور کھیتیاں پیدا کیں۔ (والنخل والزوع)۔
ان دو کا ذکر خاص طور سے اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں انسانی زندگی اور خوراک میں شامل ہیں (یہ توجہ رہے کہ جنات باغات کو بھی کہتے ہیں اور زراعت سے ڈھکی ہوئی زمینوں کو بھی کہتے ہیں)۔
اس کے بعد مزید ارشاد ہوا :- یہ درخت میوہ اور ذائقے کے لحاظ سے آپس میں مختلف ہیں ۔ یعنی باوجود اس کے کہ یہ ایک ہی زمین سے گئے ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک الگ الگ مزه ، خوشبو اور خاصیت کا حامل ہے جو دوسرے درختوں میں نہیں پائے جاتے (مختلفًا اكله)۔ ؎1
اس کے بعد دوسرے دو قسم کے میووں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو غیرمعمولی مفید اور حیات بخش ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ، اسی طرح سے زیتون اور انار ہیں (والزيتون والرمان).
ان دو کا انتخاب بظاہر اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ دو درخت اگرچہ ظاہری نظر میں ایک دوسرے سے مشابہت
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اکل (باضم الف ، وسکون یا ضم کاف) اس چیز کو کہتے ہیں جو کھائی جائے (اس کی اصل اکل ہے جس کے معنی کھانے کے ہیں)۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
رکھتے ہیں لیکن میوہ اور غذائی خاصیت کی رو سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ لہذا بغیرکسی وقفہ کے ارشاد ہوتا ہے :- یہ دونوں ایک دوسرے سے مشابہ بھی ہیں اور غیر مشابہ بھی متشابهًا وغير متشابه)۔ ؎1
ان تمام طرح طرح کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد پرور دگار عالم فرماتا ہے :- جب ان کے میوے تیار ہوجائیں تو ان میں سے تناول کرو لیکن بھولنا نہیں کہ میوہ چنتے وقت ان کے حق کو ادا کردینا (كلوا من ثمرهآ اتواحقه ، يوم حصارًا)۔
آخرمیں خدا تعالی یہ حکم دیا ہے :- اور اسراف نہ کرتا کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا (ولا تسرفوا انه لا يحب المسرفين)۔
"اسراف" کے معنی ہیں حد اعتدال سے متجاوز ہونا. اس لفظ سے ہو سکتا ہے کھانے میں اسراف یا بخشنے میں طرف اشارہ ہو ۔ کیونکہ بعض لوگ اتنے کھلے دل کے ہیں کہ اپنا مال ادھر ادھرلٹا دیتے ہیں اور اپنے تئیں اور اپنے بچوں کو مردم کر دیتے ہیں۔