Tafseer e Namoona

Topic

											

									   آیه 140

										
																									
								

Ayat No : 140

: الانعام

قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ۱۴۰

Translation

یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا اور جو رزق خدا نے انہیں دیا ہے اسے اسی پر بہتان لگا کر اپنے اوپر حرام کرلیا -یہ سب بہک گئے ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں.

Tafseer

									(140) وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَابِ اَنْ اِذَا سَـمِعْتُـمْ اٰيَاتِ اللّـٰهِ يُكْـفَرُ بِـهَا وَيُسْتَـهْزَاُ بِـهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُـمْ حَتّـٰى يَخُوْضُوْا فِىْ حَدِيْثٍ غَيْـرِهٖ ۚ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُـهُـمْ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِيْنَ وَالْكَافِـرِيْنَ فِىْ جَهَنَّـمَ جَـمِيْعًا 

  ترجمہ

(140) (وہ خدا) وہ ہے کہ جس نے معروش باغات (جس میں درخت بیل کی شکل میں ہوتے ہیں اور ان کو مچان باندھ کر ان پر پھیلایا جاتا ہے جیسے انگور کی بیل) اور غیر معروش باغ
(وہ درخت جن کو مچان کی ضرورت نہیں ہوتی) پیدا کیے ، اسی طرح سے کھجور کے نخلستان " اور طرح طرح کی کھیتیاں پیدا کیں جو میوہ اور مزے کے لحاظ سے آپس میں مختلف ہیں (نیز) زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جو ایک جہت سے باہم مشابہ ہیں دوسری جہت سے مختلف ہیں (پتوں اور ظاہری شکل میں آپس میں ملتے جلتے ہیں جبکہ ان کے میووں کا مزہ آپس میں مختلف ہے) ان کے میووں کو جب ان میں پھل آئیں کھاؤ اور ان کا حق محصول لینے کے وقت ادا کردو ، اسراف نہ کرو کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔