۳۔ انسان کی عجیب قوسِ صعودی و نزولی
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ أُولَٰئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ ۶إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ۷جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ ۸
بے شک اہل کتاب میں جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے اور دیگر مشرکین سب جہنمّ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بدترین خلائق ہیں. اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین خلائق ہیں. پروردگار کے یہاں ان کی جزائ وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ انہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں خدا ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں اور یہ سب اس کے لئے ہے جس کے دل میں خوف خدا ہے.
اس سورہ کی آیات سے اچھی طر ح معلوم ہوتا ہے کہ عالم میں کسی بھی مخلوق کے قوس صعودی و نزولی کا فاصلہ انسان کے قوس صعودی و نزولی کے برابر نہیں ہے ۔ اگر انسان ایمان لے آئے اور اعمالِ صالح بجالائے( اس بات پر توجہ رہے کہ ” عملوا الصالحات“ تمام اعمال صالح کو شامل ہے ، نہ کہ بعض کو)) تو وہ خدا کی مخلوق میں سے زیادہ افضل اور بر ترہوجاتا ہے ، لیکن اگر وہ کفر و ضلالت اور ہٹ دھر می اور عنادکا راستہ اختیار کرلے ، تو اتنا گر جاتا ہے کہ خدا کی مخلوق میں سب سے زیادہ بد تربن جاتا ہے !انسان کے ” قوس صعودی“ و نزولی“ کا یہ عظیم، فاصلہ اگر چہ ایک حساس اور خطر ناک مسئلہ ہے لیکن یہ نوع بشر کے مقام عظمت اور اس کے تکامل و ارتقاء کی قابلیت پر دلالت کرتا ہے ، اور یہ ایک طبیعی و فطری چیز ہے کہ اس قسم کی حد سے زیادہ قابلیت و استعداد کے ہوتے ہوئے ، تنزل و سقوط کا امکان بھی حد سے زیادہ ہو۔ خدا وندا ! ہم ” خیر البریہ“ کے بلند مقام تک پہنچنے کے لیے تیرے لطف و کرم سے مدد طلب کرتے ہیں ۔
پروردگارا ! ہمیں اس عظیم اور بزرگ ہستی کے شیعوں اور پیروکاروں میں سے قرار دے جو اس کے لیے سب سے زیادہ لائق اور شائستہ ہے ۔
بار الٰہا ! ہمیں اس قسم کا خلوص مرحمت فرماکہ ہم تیرے سوال کسی کی پرستش نہ کریں اور تیرے غیر سے محبت نہ رکھیں ۔
آمین یا رب العالمین