۲۔ عبادت میں خلوص نیت لازم ہے
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ أُولَٰئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ ۶إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ۷جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ ۸
بے شک اہل کتاب میں جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے اور دیگر مشرکین سب جہنمّ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بدترین خلائق ہیں. اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین خلائق ہیں. پروردگار کے یہاں ان کی جزائ وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ انہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں خدا ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں اور یہ سب اس کے لئے ہے جس کے دل میں خوف خدا ہے.
اصول فقہ کے بعض علماء نے آیہ ” وما امرو الا لیعبدون ا اللہ مخلصین لہ الدین“ سے عبادات میں قصدِ قربت کے لازم ہونے پر استدلال کیاہے اور یہ اوامر میں اصل ان کا تعبدی ہونا ہے نہ کہ توصلی ہونا۔ اور یہ اس سے وابستہ ہے کہ یہاں ” دین “ کا معنی عبادت ہو، تا کہ یہ عبادات میں خلوص کے لازم ہونے کی دلیل بنے اور ” امر“ کو ہم اس آیت میں مطلق قرار دیں ، تاکہ اس کامفہوم تمام اوامر میں قصدِ قربت کا لازم ہوناہے ، ( سوائے ان موارد کے جو دلیل کی وجہ سے خارج ہوں ) حالانکہ آیت کا مفہوم ، ظاہر کے اعتبار سے ، ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے ، بلکہ اس سے مقصود شرکِ کے مقابلہ میں توحید کا اثبات ہے ۔ یعنی انہیں توحید کے سوال اور کسی چیز کی دعوت نہیں دی گئی ہے اور اس حال میں اس کا احکام فرعی کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے ۔