Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۷۔ کیا مختلف علاقوں میں ایک ہی شب قدر ہوتی ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 1-5

: القدر

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۱وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۲لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۳تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ ۴سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۵

Translation

بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے. اور آپ کیا جانیں یہ شب قدر کیا چیز ہے. شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے. اس میں ملائکہ اور روح القدس اسُن خدا کے ساتھ تمام امور کو لے کر نازل ہوتے ہیں. یہ رات طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے.

Tafseer

									ہم جانتے ہیں کہ تمام شہروں میں قمری مہینوں کا آغاز یکساں نہیں ہو تااور یہ ممکن ہے کہ ایک علاقہ میں تو آج اول ماہ ہو، اور دوسرے علاقہ میں دوسری تاریخ ہو۔ اس بناء پر شب قدرِ سال میں ایک معین رات نہیں ہو سکتی ، کیونکہ مثال کے طور پر مکہ کی تیئسویں رات ، ایران و عراق میں بائیسویں رات ہو سکتی ہے ، اس طرح اصولی طور پر ہر ایک کی علیٰحدہ شب قدر ہو گی ۔کیا یہ بات اس چیز سے ، جو آیات و روایات سے معلوم ہوتی ہے ، کہ شب قدر ایک معین رات ہے ، ساز گارہے ؟ !
اس سوال کا جواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ رات وہی کرہٴ زمین کے آدھے سایہ کوہی کہتے ہیں ، جو کرہٴ زمین کے دوسرے حصہ پرپڑتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سایہ گردش زمین کے ساتھ حرکت میں ہے ، اور اس کا ایک مکمل دورہ چوبیس گھنٹوں میں انجام پاتا ہے ، اس بناء پرممکن ہے کہ شب قدر رات کا زمین کے گرد ایک مکمل دورہ ہو۔ یعنی تاریکی کی چوبیس گھنٹے کی مدت جو زمین کے تمام نقاط کو اپنے سائے کے نیچے لے لے ، وہ شب قدر ہے ، جس کا آغاز ایک نقطہ سے ہوتا ہے ، اور دوسرے نقطہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ ( غور کیجئے)۔ 
خدا وندا ! ہمیں اس قسم کی بیداری و آگاہی عطا فرما کہ لیلة القدر کی فضیلت سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں ۔ 
پروردگارا ! ہماری چشم امید تیرے لطف و کرم پر لگی ہوئی ہے ، ہمارے مقدرات کو اس کے موافق معین فرما۔ 
بار الٰہا ! ہمیں اس مہینہ کے محرومین میں سے قرار نہ دے کہ جس سے بالاتر کوئی محرومیت نہیں ہے ۔ 
آمین یا رب العالمین