Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۶۔ قرآن شب قدر میں کیوں نازل ہوا؟

										
																									
								

Ayat No : 1-5

: القدر

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۱وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۲لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۳تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ ۴سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۵

Translation

بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے. اور آپ کیا جانیں یہ شب قدر کیا چیز ہے. شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے. اس میں ملائکہ اور روح القدس اسُن خدا کے ساتھ تمام امور کو لے کر نازل ہوتے ہیں. یہ رات طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے.

Tafseer

									کیونکہ شب قدر میں ایک سال کے لیے انسانوں کی سر نوشت ان کی قابلیتوں اور صلاحیتوں کے مطابق مقدر کی جاتی ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انسان اس رات بیدار رہے ۔ اور توبہ اور اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے اور خدا کی بار گاہ میں حاضر ہوکر خود میں اس کی رحمت کے لیے زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر لیاقت پیدا کرے ۔ 
ہاں ! جن لمحات میں ہماری سر نوشت کی تعین ہوتی ہے ان میں انسان کو سویاہوانہیں ہونا چاہئیے ، اور نہ ہی ہر چیز سے غافل او ر بے خبر رہنا چاہئیے کیونکہ اس صورت میں ایک غم ناک سر نوشت ہو جائے گی۔ 
قرآن چونکہ ایک سر نوشت ساز کتاب ہے ، اور اس میں انسانوں کی سعادت و خوش بختی اور ہدایت کی باتوں کی وضاحت کی گئی ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ سر نوشتوں کی تعین کا پروگرام شب قدر میں نازل ہو۔ قرآن اور شب قدر کے درمیان کتنا خوبصورت رابطہ ہے ، اور ان دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق اور رشتہ کس قدر پر معنی ہے ؟