Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ دنیا رنج و تکلیف اور دکھ درد کا گھر ہے

										
																									
								

Ayat No : 1-9

: الانشقاق

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ۱وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ۲وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۳وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ ۴وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ۵يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ ۶فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ۷فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ۸وَيَنْقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا ۹

Translation

جب آسمان پھٹ جائے گا. اور اپنے پروردگار کا حکم بجا لائے گا اور یہ ضروری بھی ہے. اور جب زمین برابر کرکے پھیلا دی جائے گی. اور وہ اپنے ذخیرے پھینک کر خالی ہوجائے گی. اور اپنے پروردگار کا حکم بجا لائے گی اور یہ ضروری بھی ہے. اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی کوشش کررہا ہے تو ایک دن اس کا سامنا کرے گا. پھر جس کو نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا. اس کا حساب آسان ہوگا. اور وہ اپنے اہل کی طرف خوشی خوشی واپس آئے گا.

Tafseer

									” کادح“ کی تعبیر مندرجہ بالا آیت میں آئی ہے اور سعی و کوشش کی طرف اشارہ ہے جس میں رنج و زحمت کی آمیزش ہو ، اس طرف توجہ رکھتے ہوئے ، کہ اس کے مخالف تمام انسان ہیں ، اس واقعیت کو پیش کرتی ہے کہ اس جہان کی زندگی کی طبیعت کسی مرحلہ میں بھی مشکلات ، تکالیف اور رنج و مشقت سے خالی نہیں ہے ۔ 
چاہے یہ مشکلات و تکالیف جسمانی ہوں ، چاہے روحانی اور فکری یا دونوں کسی فرد کو اس سے مفر نہیں ہے ۔ حضرت علی ابن الحسین کی ایک بہت ہی پر معنی حدیث ہے :
(الراحة لم تخلق فی الدنیا ولا لاھل الدنیا ، انما خلقت الراحة فی الجنة و لاھل الجنة و التعب و النصب خلقا فی الدنیا و لاھل الدنیا وما اعطی احد منھا جفنة الا اعطی من الحرص مثلیھا و من اصاب من الدنیا اکثر کان فیھا اشد فقیراً لانہ یفتقر الیٰ الناس فی حفظ اموالہ و تفتقر الیٰ کل اٰلة من اٰلات الدنیا فلیس فی غنی الدنیا الراحة)
راحت و آرام دنیا میں اہل دنیا کے لئے نہیں ہے ، راحت و آسائش صرف جنت میں ہے اور اہل جنت کے لئے ہے ۔ رنج و تعب دنیا میں ہیں اور اہل دنیا کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ۔ اسی وجہ سے جو ایک پیمانہ اس میں سے حاصل کر لیتا ہے تو دگنا لالچ اس کے نصیب میں شامل ہو جاتا ہے اور جس کے پاس مال دنیا کا فی ہے وہ زیادہ فقیر ہے ، کیونکہ وہ اپنے مال کی حفاظت کے سلسلہ میں دوسروں کا محتاج ہے اور زیادہ وسائلِ حفاظت کا محتاج ہے ۔ لہٰذا دنیا کے مال و دولت میں کوئی راحت و آرام نہیں ہے ۔ 
اس کے بعد امام  نے اس حدیث کے ذیل میں فرمایا:( کلا ما تعب اولیاء اللہ فی الدنیا للدنیا بل تعبوا فی الدنیا للاٰ خرة) اولیاء خدا دنیا میں دنیا کی خاطر رنج و تعب میں نہیں مبتلا ہوتے بلکہ دنیا میں ان کا رنج و تعب آخرت کے لئے ہے ۔ ۱

۱۰۔ وامّا مَنْ اوتیَ کتابہ ورآءَ ظَھرہ۔ 
۱۱۔ فسوفَ ید عوا ثُبُوراً۔ 
۱۲۔ ویصلیٰ سَعِیراً۔ 
۱۳۔ انّہ کان فی اہلہ مسروراً
۱۴۔ انّہ ظنّ اَن لن یحورَ۔ 
۱۵۔ بلیٰ ِانَّ ربَّہ کان بہ بصیراً۔ 
ترجمہ
۱۰ ۔ اور رہا وہ شخص جس کو اس کانامہ اعمال پیچھے کی طرف سے دیا گیا ۔ 
۱۱۔ تو عنقریب اس کی فریاد بلند ہوگی کہ وائے ہو مجھ پر میں ہلاک ہوگیا ۔ 
۱۲۔ اور وہ جہنم کی آگ کے جلانے والے شعلوں میں جلے گا۔ 
۱۳۔ وہ اپنے گھروں کے درمیان ( کفرو گناہ کے سبب) مسرور تھا ۔ 
۱۴۔ وہ گمان کرتا تھا کہ کبھی پلٹ کر نہیں آئے گا۔ 
۱۵۔ جی ہاں ! اس کا پروردگار اس کے مقابلہ میں بینا تھا۔


۱۔ خصال صدیق جلد جلد۱، باب الدنیا و الاخرة ککفق المیزان ، حدیث ۹۵۔